خُلُق کی تبدیلی سے کیا مراد ہے ؟
غضب اور خواہش کو حَدِّاِعتدال کی طرف پھیرنا کہ ان میں سے کوئی بھی عقل پر غالب نہ ہو بلکہ دونوں عقل کے ماتحت ہوں اور ان دونوں پر عقل کا غلبہ ہویہ ممکن ہے اورخُلُق(عادت) کی تبدیلی سے یہی مراد ہے۔ بسا اوقات انسان پر خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی عقل اسےبُرے کاموں سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتی اوروہ برائی میں بڑھ جاتاہے تو عبادت وریاضت کے ذریعے وہ حدِ اعتدال کی طرف لوٹ آتا ہے،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہے اورتَجْرِبہ اور مُشاہَدہ بھی اسی پر دلالت کرتاہے تو اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ اخلاق میں تبدیلی ممکن ہے۔
اَخلاق سے مقصود:
اَخلاق سے مقصود اِفراط وتفریط نہیں بلکہ درمِیانی راہ اختیار کرنا ہے۔جیسے سخاوت شرعی طور پر قابل تعریف ہے اور یہ اپنی دونوں اطراف فُضول خرچی اورکنجوسی کی درمیانی راہ ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی تعریف کرتے ہوئےارشاد فرمایا:
وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾ (پ۱۹،الفرقان:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حدسے بڑھیں اورنہ تنگی کریں اوران دونوں کے بیچ اعتدال پررہيں۔
اور ارشادفرمایا:
وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ(پ۱۵،بنی اسرآئيل:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے۔
اسی طرح کھانے کی خواہش میں بھی اِعتدال مقصود ہے ،حرص اور کھانے سےبالكل رک جانا مقصود نہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
کُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾٪ (پ۸،الاعراف:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔