میں ڈالنے والی چیزوں سے خود کوروک نہ سکےاورہلاک ہوجائے۔ جب اصل شہوت باقی ہے تو لازماً مال کی محبت بھی باقی رہے گی جو شہوت تک پہنچاتی اور مال میں بخل پر مجبور کرتی ہے۔اسے بالکل ختم کرنا ہمارامقصود نہیں بلکہ اعتدال یعنی اِفراط و تفریط کے درمیان رکھنا مقصودہے۔صفتِ غضبسے مقصود یہ ہے کہ غیر ت مند ہو اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب لاپروائی اور بزدلی نہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ وہ بذات خود مضبوط ہو اور اس کے ساتھ عقل کے تابع بھی ہوجیساکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ارشاد ہے:
اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ (پ۲۶،الفتح:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
اس آیتِ مبارکہ میں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو شدت سے موصوف فرمایا گیا ہے اور شدت غصے کی وجہ سے ہی صادر ہوتی ہے اور اگر غصہ کو ختم کردیا جائے تو جہاد باقی نہ رہے گا۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ خواہش اورغضب کو بالکل ختم کردیا جائے حالانکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامبھی ان صفات سے مکمل طور پر خالی نہیں رہے ۔
رسولِ خداصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا جلال:
حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُکَرَّم ہے:اِنَّـمَا اَنَـا بَشَرٌ اَغْضِبُ کَمَا یَغْضِبُ الْبَشَرُ یعنی بے شک میں بھی تو لبادۂ بشریت میں ہوں اور مجھے بھی( اس حالت میں) دوسرے انسانوں کی طرح غصہ آتا ہے۔(1)
اسی طرح جب آپ کے سامنے کوئی ناپسند یدہ بات کی جاتی تو آپ کے دونوں رُخسار مبارَک جلال سے سرخ ہوجاتے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس وقت بھی حق ہی فرماتے اور اس حالت میں بھی حق سےخُرُوج نہ کرتے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں یہ توارشاد فرمایاہے:
وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے۔
اور یہ ارشاد نہیں فرمایا:وَالْفٰقِدِیْنَ الْـغَیْظَیعنی وہ لوگ جن میں غصّہ نہیں پایا جاتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب البروالصلة،باب من لعنة النبی…..الخ،ص۱۴۰۲، حديث:۲۶۰۱ بتغیر