Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
173 - 1245
 باوجودیہ اپنی عملی کوتا ہی سے باخبر ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ پہلے مرتبے والوں سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ ان پر دُگنی محنت کرنا ہوتی ہے۔پہلے اس میل کو دورکرناہوتا ہے جو فساد کی عادت کی وجہ سے ان کے نفس پر جمی ہوتی ہے پھر انہیں اچھے اعمال کا  عادی بنانا پڑتا ہے۔ مِن جُمْلَہ اگر سخت محنت اور پوری کوشش سے ان کی اصلاح کی جائے تو یہ لوگ مجاہدہ وریاضت کے قابل ہوسکتے ہیں(جس کی وجہ سے ان کے اخلاق میں تبدیلی واقع ہوسکتی ہے)۔
٭…تیسرا مرتبہ:ان لوگوں کا ہے جو بُرے اخلاق کو اچھا اورانہیں اختیار کرنے کو  واجب سمجھتے ہیں اور اسے اپنا حق اور حُسنِ اَخلاق گمان کرتے ہیں کیونکہ ان کی پرورش انہی اَخلاق پر ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کا علاج ناممکن ہے نیز ان کی اصلاح کی امید نہیں کی جاسکتی کیونکہ ان میں گمراہی کے اسباب زیادہ ہوتے ہیں اوراگر کسی ایک کی اصلاح ہوجائے تو یہ شاذونادر معاملہ ہے۔
٭…چوتھا مرتبہ:ان لوگوں کاہے جن کی نَشْو ونَما فاسِد رائے اور تربیت بُرے عمل پر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کثرتِ شر، لوگوں کو ہلاک کرنے اور اس پر فخر کرنے کو  باعث فضیلت سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں یہ کام ان کی قدرومنْزِلت کو بڑھاتے ہیں۔یہ سب سے مشکل مرتبہ ہے اسی مرتبے والوں کے بارے میں کہا گیا ہے:وَمِنَ العِنَآءِ رِيَاضَةُ الْهَـرَمِ وَمِنَ التَّعْذِیْبِ تَہْذِیْبُ الذِّئْب یعنی بڑھاپے کی ریاضت باعث تھکاوٹ ہے اور بھیڑئیے کوادب سکھاناخود کومشقت میں ڈالنا ہے۔
	ان میں پہلے مرتبے کےحامل افراد جاہل،دوسرے مرتبے کے جاہل و گمراہ، تیسرے مرتبے  کے جاہل،گمراہ اور  فاسق اورچوتھے مرتبے کے حامل افرادجاہل، گمراہ ، فاسق اور شریر ہیں۔
دوسرے اِستدلال کا جواب:
	جہاں تک دوسرے استدلال کی بات ہے کہ آدمی جب تک زندہ رہتاہے اس سے شہوت(خواہش)، غصّہ،محبتِ دنیا  اور باقی تمام بُرے اخلاق دور نہیں ہوسکتےتویہ بات غلط ہے اور یہ خیال ایسے لوگوں  کا ہے جن کا مقصود مجاہدے سے ان صفات کوبالکل ختم کرنا ہےجبکہ  ایسا نہیں ہے۔شہوت کو کسی فائدے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور فطرتاً اس کا ہونا ضروری ہے۔اگر کھانے کی خواہش ختم ہوجائے تو انسان ہلاک ہوجائے،  اگر جِماع کی خواہش ختم ہوجائے تو نسل  انسانی کا بقا نہ رہے اور اگر غضب بالکل معدوم ہوجائے تو انسان ہلاکت