Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
172 - 1245
 یہاں تک  کہ وہ بعض احوال کو قبول کرتاہے اور بعض کو نہیں تو شہوت اور غَضَب کا بھی یہی حال ہے کہ اگر ہم انہیں  مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ کریں یہاں تک کہ ان کا کچھ اثر باقی نہ رہے تو ہم اس چیز پر قادر نہیں البتہ رِیاضَت اورمجاہَدے کے ذریعے انہیں تابع بنانا اور قابو کرنا ہمارے اختیار میں ہے اور ہمیں اسی بات کاحکم دیا گیا ہےاور اسی میں  ہماری نجات ہے اور یہی رب تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔
	طَبِیْعَتوں کی بات  کریں تو طبیعتیں  مختلف ہوتی ہیں بعض جلد اثر قبول کرنے والی ہوتی  ہیں اور بعض ذرادیر سے اثرقبول کرتی ہیں اور اس اختلاف کی دووُجُوہات ہیں:
	(۱)…فطرت میں پائی جانے والی قوت جو دیر پاہوتی ہے مثلاًقوتِ شہوت ، غضب اور تکبُّریہ تینوں انسان میں موجود ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ مشکل مُعامَلہ قُوتِ شہوت میں تبدیلی ہے کیونکہ اس کا وجود سب سے پہلے ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ قوتِ شہوت بچے میں فطری طور پر پیدا کی گئی ہے جبکہ قوتِ غضب اکثر سات سال کی عمر میں جاکر ہی پیدا ہوتی  ہے اور اس کے کچھ عرصےبعد ہی  اسے  قوتِ تمیز حاصل ہوتی ہے۔
	(۲)…عادت بسااوقات عمل کی کثرت کے سبب  بھی پختہ  ہوجاتی ہے جبکہ اس کے مطابق عمل ہو اور یہ عقیدہ ہو کہ یہ عمل اچھا اور پسند یدہ ہے۔
قبولِ اِصلاح کے سلسلے میں لوگوں کے چارمراتب:
٭…پہلامرتبہ:اُن لوگوں کا ہے جو غافل ہیں اور حق و باطل اور اچھے برے میں فرق نہیں کرتےبلکہ اپنی فطرت پر جس پر وہ پروان چڑھے باقی رہتے ہیں۔ تمام اِعْتِقادات سے فارغ ہوتے ہیں اور لذات کی اِتِّباع کرنےکے باوجودان کی خواہش پوری نہیں ہوتی ۔ایسے لوگوں کا علاج ممکن ہے۔ انہیں ایک استاذ اور تربیت کرنے والے  کی حاجت ہوتی ہے۔ان کے نَفْس میں  ایک جذبہ بھی ہوتاجو انہیں  مجاہدے پر ابھارتاہے۔ ایسے لوگوں کے اخلاق علاج سے تھوڑے عرصے میں درست  ہوجاتے ہیں۔
٭…دوسرا مرتبہ:اُن لوگوں کا ہے جو برائی کی پہچان رکھتے ہیں لیکن اچھے اعمال کے عادی نہیں ہوتے بلکہ اپنا برا عمل انہیں اچھا محسوس ہوتاہے اور یہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے اس کااِرتکاب کرتے ہیں۔اِن پر چونکہ خواہش کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے یہ اپنی رائے میں دُرُستی سے اِعراض کرنے والے ہوتے ہیں  لیکن اس کے