(۲)…حُسنِ اخلاق کے لئے شہوت اور غَضَب کو ختم کرنا ہوتاہے اور ہم نے طویل مجاہَدے سےاس بات کا تَجْرِبہ کیا ہے اور جانا ہے کہ یہ چیزیں مِزاج او ر طبیعت کے مُوافِق ہوتی ہیں اور آدمی سے بالکل مُنْقَطَع(ختم) نہیں ہوتیں توان کو ختم کرنے میں مشغول ہونا بلا فائدہ وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ تزکیۂ نفس کامقصود تو یہ ہے کہ موجودہ فانی لذتوں کی طرف دل کی توجہ کوختم کیا جائے، اس کا وجود محال ہے(یعنی یہ بات ممکن نہیں)۔
پہلے اِستدلال کا جواب:
اگر اَخلاق میں تبدیلی واقع نہ ہوتی تو وعظ و نصیحت اور تادِیب و تربیت سب بیکار ہوجاتا اور شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےیہ بات منقول نہ ہوتی کہ’’حَسِّنُوْا اَخْلَا قَـکُمْیعنی اپنے اخلاق اچھے کرو۔(1)
انسان کے حق میں اس بات کا انکار کیسے کیا جاسکتا کہ اس کی عادات میں تبدیلی ممکن نہیں جبکہ حیوانات کی عادات کو بدلنا ممکن ہےجیسا کہ باز کی وَحْشَت،سکھانے کی وجہ سےاُنْسِیَّت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔شکاری کتا سکھا نے سے مُؤَدَّب ہوجاتا ہے اور شکار میں سے کچھ نہیں کھاتا بلکہ اسے روک لیتا ہےاورگھوڑا سر کشی سے اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرلیتاہے اور یہ سب باتیں اخلاق کی تبدیلی ہی ہیں۔
مو جودات کی اقسام:
حقیقت حال سے پردہ اٹھاتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ مو جودات کی دوقسمیں ہیں :
(۱)…جن کا وُجُود کامِل ہےنہ ان میں کمی ممکن ہے اور نہ زیادتی ، ان میں کمی یازیادتی کا اختیار انسان کو حاصل نہیں جیسے آسمان اور ستارے اسی طرح انسان کے داخلی ،خارجی اَعضاء اور حیوانات کے تمام اجزا۔
(۲ )…جن کاوجود ناقص ہے ان میں یہ صَلاحِیَّت موجود ہے کہ جب شرطِ کمال پائی جائے تو وہ اسے قبول کرتے ہیں اور یہ شرط بسا اوقات بندے کے اختیارمیں ہوتی ہے۔ جیسے سیب کا بیج نہ توسیب کا پھل ہے اور نہ ہی درخت لیکن اسے اس انداز میں پیدا کیا گیا ہے کہ اگر اس کی تربیت کی جائے تو وہ درخت توبن سکتا ہے لیکن پھل نہیں بن سکتا اورتربیت کے ذریعےبھی ایسا ممکن نہیں تو جب بیج اختیار سے متاثر ہوسکتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی حسن الخلق،۶/ ۲۴۵، حديث:۸۰۲۹ بتغیر