سَبِیۡلِ اللہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ (پ۲۶،الحجرات:۱۵)
مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّاو راس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بغیر کسی شک وشبہ کے ایمان لانا ہی قوتِ یقین، عقل کا ثَمَرہ ونتیجہ اور حکمت کامُنْتَہٰی ہے۔ مال کے ذریعے جہاد کرنا سخاوت ہے جو قوتِ شہوت کو قابو کرنے کی طرف لوٹتی ہے اورنفس سے جہاد کرناشجاعت ہے جو عقل کے مُوافِق اور اعتدال کے طریقے پر قوتِ غَضَب کے استعمال کانام ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ (پ۲۶،الفتح:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شِدّت کا ایک الگ موقع ہے اورشفقت و رحمت کا الگ، ہر حال میں شدت اختیار کرنا کوئی کمال نہیں جس طرح ہر حال میں شَفْقَت بھرا سلوک کرنا کوئی کمال نہیں ۔ تویہ خُلُق کے معنی،اس کے حسن و قبح ، ارکان ، ثَمَرات ونتائج اور اس کے فُرُوع کا بیان تھا۔
تیسری فصل: رِیاضتِ نفس سے اَخلاق میں تبدیلی
جن لوگوں پر باطِل کا غَلَبہ ہوتاہے اُن پر مجاہَدہ، رِیاضَتِ نَفْس،تَزکِیَۂ نَفْس(باطِن کی صفائی) اور اخلاق کو سنوارنے میں مَشْغُولِیَّت گراں گزرتی ہے تو وہ نفس کو اپنی کوتاہی ، نَقْص اورخباثَتِ باطنی کی وجہ سے قابو میں نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اخلاق میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی کیونکہ طَبِیْعَتوں میں تبدیلی ممکن نہیں یہ لوگ دوباتوں کی وجہ سے یہ استدلال کرتے ہیں۔
(۱)…خُلق:جس طرح اس کا تعلق باطنی صورت سے ہےاسی طرح اس کا تعلق ظاہری صورت سے بھی ہے۔آدمی ظاہری صورت کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا۔مثلاً پستہ قدوالا شخص خود کو لمبا اور لمبے قد والا خود کو پَسْتَہ قد نہیں بنا سکتا اور بد صورت اپنے آپ کو خوبصورت نہیں بنا سکتا۔اسی طرح باطنی بدصورتی ہے کہ اس میں بھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔