حسد ، کسی کی مصیبت پر خوشی ، مالداروں کے سامنے (ان کی دولت کی وجہ سے)ذلیل ہونا اور فقرا کو(ان کے فقر کی وجہ سے) حقیر جاننا وغیرہ جیسی بری صفات پیدا ہوتی ہیں۔
معلوم ہوا کہ تمام اچھے اخلاق کی بنیاد اِن چار اخلاقی فضائل پرمشتمل ہے: (۱)…حکمت۔ (۲)… شجاعت۔ (۳)…عفت اور(۴)…عدل ۔باقی سب ان کے فروع ہیں۔
چاروں اَخلاقی فضائل میں کمال اِعْتِدال:
ان مذکورہ چاروں اخلاقی فضائل میں کمالِ اعتدال صرف مُحْسِنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حاصل ہےاور آپ کے علاہ باقی لوگ قرب و بعد کے لحاظ سے اس میں مختلف ہیں۔ تو جو شخص ان اخلاقی فضائل میں سیِّدعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جس قدر قریب ہوگا وہ اسی قدر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے گا اور جو ان تمام اخلاق کا جامع ہو وہ اس بات کے لائق ہے کہ لوگوں کاپیشوا ہو، اس کی اطاعت کی جائے، لوگ اس کی طرف رجوع کریں اوراس کے تمام افعال میں اس کی اِقتِدا کی جائے۔جو ان چار اخلاق سے عاری ہوبلکہ اس کے برعکس ان اخلاق کی ضدوں سےمُتَّصِف ہوتو وہ اس لائق ہےکہ اسے شہر بدرکیا جائے ، لوگوں سے دور رکھا جائے کیو نکہ وہ شیطان لَعِین کے قریب ہےجوکہ ربّ تعالیٰ سے دور ہے، لہٰذا اسے لوگوں سے دور رکھنا چاہئے جیسا کہ پہلا شخص جو ان چاراخلاق سے متصف ہے مقرب فرشتوں کے قریب ہوتاہے،لہٰذا اس کی پیروی کرنا اور اس کا قرب اختیار کرنا چاہئے کیونکہ رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا جیسا کہ آپ نے خود اس کی تصریح فرمائی۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن پاک میں مؤمنین کے اوصاف میں اسی اخلاق کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔چنانچہ ارشادباری تعالیٰ ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنۡفُسِہِمْ فِیۡ
ترجمۂ کنز الایمان: ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اپنی جان اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح السنة للبغوی،کتاب الفضائل،باب فضائل سيد الاولين،والاخرين،۷/ ۹، حديث:۳۵۱۶