یہاں حکمت سے ہماری مراد نَفْس کی وہ حالت ہے جس کے ذریعےانسان اختیاری افعال میں صحیح غلط کے درمیان تمیز کرسکے اور عدل سے مرادنفس کی وہ حالت اور قوت ہے جس کے ذریعے وہ غضب اور شہوت میں حکمت کے مُوافِق انہیں (یعنی غضب اور شہوت کو)قابو میں رکھتے ہوئےروکتا اور چھوڑتاہے ا ور شجاعت سے مراد قوتِ غَضَب عقل کے تابع ہو اسی کے کہنے کے مطابق کوئی عمل کرے یا چھوڑے۔عفت سے مراد یہ ہے کہ قوتِ شہوت عقل اور شریعت کے آداب کے موافق عمل کرے، تو جب یہ چاروں اُصول اعتدال پر مبنی ہوں گے تو اس کے سبب انسان سے تمام اَخلاقِ جَمِیْلہ صادِر ہوں گے جیساکہ قوتِ عقل کے اعتدال سے حُسْنِ تد بیر، ذکاوتِ ذہنی، رائے وگمان کی دُرُستی،اعمال کی باریکیوں اورنفس کی مَخْفی آفات پر آگاہی حاصل ہوتی ہے۔اگراس میں زیادتی ہوتو اس سے دھوکا ،مکر و فریب اور عیاری پیدا ہوتی ہے اور کمی کی صورت میں کم عقلی،نا تجربہ کاری، حماقت اور جُنُون پیدا ہوتاہے اور نا تجربہ کاری سے مراد یہ ہے کہ خیال کے صحیح ہونے کے باوجودکاموں میں آدمی کو تجربے کی کمی کا سامناہوجیسے کسی انسان کو بعض اوقات ایک کام کا تجربہ ہوتاہے اور دوسرے کام نہیں ہوتا۔ حماقت اور جنون میں فرق یہ ہے کہ احمق کا مقصود صحیح ہوتاہے لیکن وہ جس راستے کا انتخاب کرتاہے وہ غلط ہوتاہے، لہٰذا وہ غرض تک پہنچنے والے راستے کی صحیح سمت معلوم نہیں کرسکتا اور جہاں تک مجنون کی بات ہے تووہ جس کو اختیار کرتاہےاُسے اس کو اختیار ہی نہیں کرنا چاہئے، لہٰذا اس کا اصل اختیار ہی غلطی پر مبنی ہوتاہے۔
صِفَتِ شجاعت پائی جائےتو اس سے سخاوت،دِلیری، خودداری،ارادے کی مضْبوطی، تحمل مزاجی، بُردباری، ثابت قدمی، غصے کوبرداشت کرنا، وقار اور باہمی محبت وغیرہ جیسی اچھی صِفات پیدا ہوتی ہیں لیکن جب اس میں زیادتی واقع ہوتو یہ تَہَوُّر(کم عقلی پر مبنی دلیری) ہے جس سے شیخی مارنا، تکبر وغرور کرنا ، جلدی غصّے میں آنا اور خود پسندی جیسی بُری صِفات پیداہوتی ہیں اور اگر کمی ہوتو ذلت ورسوائی ،بے صبری ،کمینگی، ارادے کی کمزوری اور واجب حق کو لینے سے دور رہنے جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔
عِفَّت کی صِفَت پائی جائے تو اس سے سخاوت ، حیا، صبر،چَشْم پوشی، قناعت ، پرہیز گاری ،خوش مزاجی، دوسرے کی مدد کرنا، دانائی اور قِلَّتِ طَمَع جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں اور اگر اس صفت ِعفت میں کمی یا زیادتی ہو تو حر ص، لالچ ، بے حیائی،خباثت ، فُضُول خرچی ، کنجوسی، ریاکاری ، بے عزتی ،بے شرمی ، لَغْوِیات،خوشامد،