Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
167 - 1245
٭…قوتِ عَدْل:یہ ہے کہ شَہوت اور غَضَب کو عقل اور شریعت کے تابع کیا جائے۔
	عقل کی مثال ایک ناصِح  مُشِیْرکی طرح ہے اور قوت ِ عَدْل عقل کےمشوروں کو نافذ کرنے والی ہےجبکہ غضب وہ قوت ہے جس میں عقل کے اشاروں  کا نَفاذ ہوتاہے اور اس کی مثال اُس شکاری کتے کی طرح ہے جسے سکھانا پڑتاہے یہاں تک کہ اسےشکار پر چھوڑنےاو ر شکارسے روکنے کا تعلُّق  سب اشاروں کے مُوافِق ہوتا ہے نہ کہ نفسانی خواہش کےجوش کے مطابق اور شہوت کی مثال اس گھوڑے کی طرح  ہے جس پر سُوار ہوکر شکار کا پیچھا کیا جاتا ہے بسا اوقات وہ مُطِیْع ہوتاہے اورکبھی کبھار سرکشی پر اتر آتاہے۔ تو جس میں یہ خصلتیں اعتدال پر ہوں تو یہ مطلقاً حُسنِ اَخلاق ہے اور جس میں بعض تو اعتدال پر ہوں اور بعض نہ ہوں تو جن میں اعتدال ہے اس کی نسبت سے  وہ حُسنِ اَخلاق  کا مالک ہوگا جس طرح ایک شخص کے چہرے کے بعض اجزا خوبصورت ہوں اور بعض خوبصورت نہ ہوں(تو اسے مطلقا ً خوبصورت نہیں کہا جائے گا)۔
قوتِ غَضَب اور قوتِ شَہوت کی وضاحت:
	قوتِ غضب کے حسن اور اعتدال  کوشجاعت کہتے ہیں اورقوتِ شہوت کےحسن اور اعتدال کو عِفَّت ( پاکدامنی )سے تعبیر کرتے  ہیں۔اگر قوتِ غضب اعتدال سے بڑھ جائے تو اسے تَہَوُّر(کم عقلی پر مبنی دلیری) کہتے ہیں  اور اگر اس میں کمی اور ضُعْف ہو تو اسے بُزدِلی اورکمزوری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگر شہوت کی قوت اعتدال سے بڑھ جائے تو اسے ہَوَس کہا جاتاہے اور اگر کمی کی جانب مائل ہو تو جُمُود کہتے ہیں۔ درمیانی حالت قابل تعریف اورباعثِ فضیلت ہے جبکہ اس کی  دونوں طرفیں قابل مذمت ہیں۔
	عَدْل جب فوت ہوجائے تو کمی یازیادتی پرمشتمل اس کی دونوں طرفیں نہیں ہوں گی بلکہ اس کے مَدِّمُقابِل ظُلْم ہوگا۔ حکمت اَغراضِ فاسِدہ میں جب حد سے زیادہ ہوتو اسے خباثت اور مکرو فریب کہتے ہیں اور کم ہوتو اسے بیو قوفی کہا جاتا ہے درمیانی ہوتو اسے حکمت سے تعبیر کرتے ہیں۔
اَخلاق کے اُصُوْل:
	اَخلاق کے اُصُول چار باتوں پر مشتمل ہیں:(۱)…حکمت۔(۲)…شجاعت۔(۳)…عِفَّت۔(۴)…عَدْل۔