اس وجہ سے کہ یا تو ان کے پاس مال نہیں ہوتا یا کسی رکاوٹ کی وجہ سے وہ خرچ نہیں کرسکتے اور بسا اوقات ایک شخص بخل میں مبتلا ہوتا ہے لیکن وہ کسی ضرورت یا دکھلاوے کے لئے خرچ کررہا ہوتاہے۔خُلُقمحض قوت ( یعنی فعل پرقدرت) کا نام نہیں ہے کیونکہ قوت کی نسبت بُخْل اور سخاوت دونوں کی طرف ہوتی ہے بلکہ ان دونوں ضدوں کی طرف یکساں بھی ہوتی ہےاور ہر انسان کو فِطْری طور پرسخاوت اوربخل دونوں پر قادر پیداکیاگیا اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ بخل اور سخاوت اس میں لازمی طور پر ہو۔نیز خُلُق صرف مَعْرِفَت یعنی پہچان کا نام بھی نہیں ہے کیونکہ مَعْرِفَت اچھے اور بُرے دونوں سے یکساں تعلق رکھتی ہے بلکہ اس میں ایک چوتھا معنی بھی پایاجاتا ہے یعنی یہ وہ کیفیت و حالت ہے جس سے نَفْس بخل یا سخاوت پر تیار ہوتا ہے تو گویا خُلُقنفس کی کیفیت اور اس کی باطنی صورت کا نام ہے ۔
حُسنِ اخلاق کے اَرکان:
جس طرح ظاہری حُسن محض ایک عُضو مثلاً آنکھوں کے حسین ہونے اورناک، منہ، رُخسار وغیرہ کے حسین نہ ہونے کی وجہ سےنہیں ہوتابلکہ ان سب کا حسین ہونا ضروری ہے تاکہ ظاہری حسن مکمل ہو اسی طرح باطن کے چار اَرکان ہیں ان تمام میں حُسن کا پایا جانا ضروری ہے تا کہ حُسنِ اَخلاق کی تکمیل ہو جب اس کے چاروں ارکان برابرہوں گے اور ان میں اِعتِدال ومناسبت ہوگی تو حُسنِ اَخلاق حاصل ہوگا اور وہ چار ارکان یہ ہیں:(۱)…قوتِ عِلْم۔(۲)…قوتِ غَضَب۔(۳)…قوت ِ شَہوت اور (۴)…قوتِ عَدْل(یعنی ان تینوں کو اِعْتِدال پر رکھنے کی قوت )۔
٭…قوتِ عِلْم:اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان اقوال میں سچ اور جھوٹ ، عقائد میں حق اور باطل اور افعال میں اچھے اور بُرے کے درمِیان فرق کو بآسانی سمجھ لیتاہے۔ جب یہ قوت دُرُست ہوگی تو اسی سے حکمت كا ثمره حاصل ہوگا اور حکمت تمام اَخلاقِ حسنہ کی اصل ہے اسی کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًاؕ (پ۳،البقرة:۲۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی۔
٭…قوتِ غَضَب:اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کی کشادگی اور تنگی حکمت کے موافق ہوتی ہے۔
٭…قوتِ شَہوت:حکمت کے اشارے کے تحت یعنی عقل وشرع کے اشارے کے موافق ہوتی ہے۔