رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۷۲﴾ (پ۲۳،صٓ:۷۲،۷۱)
ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں تو تم اس کے لئے سجدے میں گرنا ۔
اس آیتِ مبارَکہ میں اس بات سے آگاہ فرمایا کہ جسم کی نسبت مٹی کی طرف ہے اور روح کی نسبت ربّ تعالیٰ کی طرف۔اس مقام میں روح اور نفس سےمرادایک ہی چیزہے۔
خُلُق کی تعریف:
خُلُق(عادت)نفس میں راسخ ایک ایسی کیفیت کانام ہےجس کی وجہ سے اَعمال بآسانی صادِر ہوتے ہیں غورو فکر کی حاجت نہیں ہوتی۔
امام غزالی عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کے نزدیک حُسن اَخلاق اور بداَخلاقی کی تعریف:
اگر نفس میں موجود وہ کیفیت ایسی ہو کہ اس کےباعث اچھے افعال اس طرح ادا ہوں کہ وہ عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ ہوں تو اسےحُسنِ اَخلاق کہتے ہیں اور اگر اس سےبُرے اَفعال اس طرح ادا ہوں کہ وہ عقلی اور شرعی طور پر نا پسندیدہ ہوں تو اسےبداخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ہم نے خُلُق کی تعریف میں کیفیتِ راسِخَہ کی قید اس لئے لگائی ہے کہ جوشخص کبھی کبھار کسی عارضی حاجت پر مال خرچ کرے تو اس کے متعلق یہ نہیں کہاجاتاکہ وہ سخی ہے جب تک یہ بات اس کے نفس میں راسخ و پختہ نہ ہوجائےاوربآسانی بغیر غور وفکر کے اعمال صادر ہونے کی قید اس لئے لگائی ہے کہ جو شخص بتکلُّف مال خرچ کرے یا بتکلُّف غصے کو قابو کرے تو یہ نہیں کہاجاتا کہ سخاوت اور بُردباری اس کی عادت ہے۔ تو یہاں چار باتیں ہیں:(۱)…اچھااور بُرافعل۔(۲)…اچھے اور بُرے فعل پر قُدرت۔(۳)…اچھے اور بُرے فعل کی پہچان اور(۴)…نفس میں ایسی کیفیت کا پایا جانا جس کے ذریعے وہ جانِبَیْن میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو اور دواُمُور میں سے ایک امر اس کے لئے آسان ہوجائے چاہے وہ اچھا ہویابُرا۔
خُلُق کی وضاحت:
خُلُقصرف فعل کا نام نہیں ہے کتنے ہی ایسے سخی ہیں جو خرچ نہ کرنے کے باوجودسخی کہلاتے ہیں اور یہ