Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
164 - 1245
﴿9﴾…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکافرمان ہے:’’حُسنِ اَخلاق تین چیزوں کا نام ہے:(۱)…حرام سے اِجتناب(۲)…حلال کا حُصُول اور(۳)…اَہل وعیال پر خرچ  میں کشادگی کرنا۔‘‘
﴿10﴾…حضرت سیِّدُناحسین  بن منصورحَلّاج عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں: حُسنِ اَخلاق یہ ہے کہ جب تجھ پر حق روشن ہوجائے تو لوگوں کا ظُلْم  تجھ پر اثر انداز نہ ہو۔ 
﴿11﴾…حضرت سیِّدُنا ابوسعیدخَرَّازعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارارشاد فرماتے ہیں:غیر ُاللہ کی طرف اِلتفات نہ کرنا حُسن اخلاق  ہے۔
	یہ اوراس طرح  کے دیگر جو اَقوال ہیں وہ  سب حُسنِ اَخلاق  کے ثَمَرات و نتائج ہیں۔حُسنِ اَخلاق کی ذات سے ان کا کوئی تعلُّق نہیں ، عِلاوہ اَزِیں جہاں تک ثمرات و نتائج  کی بات ہےتو مکمل طور پر ان  کا  احاطہ  بھی نہیں کیا گیا ،حقیقت  حال سے پردہ اٹھانا مختلف اَقوال کو ذکر کرنے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے ۔
خَلْق اور خُلُق:
	خَلْق اور خُلُق دو ایسے الفاظ ہیں جوایک ساتھ(بھی )استعمال ہوتے ہیں جیسےاہل عرب کہتے ہیں  کہ فُلَانٌ حُسْنُ الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ یعنی فلاں شخص خَلْق اور خُلُق کے اِعتبار سے حسین ہے مطلب یہ ہے کہ  اُس میں حُسنِ ظاہر  اورحُسنِ اَ خلاق دونوں ہیں، تو خَلْق سے مراد ظاہری صورت ہے جبکہ خُلُق سے مراد باطنی صورت ہے اوریہ اس لئے کہ انسان دو چیزوں سے مُرکَّب ہے:(۱)…جِسْم:جس کی پہچان  ظاہری آنکھوں سے ہوتی ہے۔ (۲)…روح:جس کی پہچان بصیرت سے ہوتی ہے اسے نَفْس  سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
	ان دونوں (جِسْم و رُوح) کی  ایک کیفیت اور صورت بھی ہے جو اچھی بھی ہوتی ہے اور بُری بھی۔نَفْس جس کی  پہچان  بصیرت کے ذریعے کرتا ہے، اس کی قدرومنزلت اس سے بڑی ہے جس کی پہچان ظاہری  آنکھ کے ذریعے ہوتی  ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نفس (یعنی روح)کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خٰلِقٌۢ بـَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۱﴾ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ 
ترجمۂ کنز الایمان: جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا پھر جب میں اسے