Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
163 - 1245
 کوتحریر کیا  جو اس کے ذہن اور  سمجھ میں آئی ۔انہوں نے اس کی ایسی تعریف اورحقیقت جو اس کے تمام ثمرات کو  تفصیلی طور پر گھیرنے والی ہو، بیان نہیں کی۔
حُسنِ اَخلاق کی11 تعریفات:
﴿1﴾…حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حُسنِ اَخلاق خوش مزاجی، مال خرچ کرنے اور ایذا رسانی سے باز رہنے کا نام ہے۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُناابو بکر محمد بن مُوسیٰ واسِطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں: حُسنِ اَخلاق  یہ ہے کہ بندہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوب معرفت کی وجہ سے  نہ کسی سے لڑے اور نہ ہی  کوئی اُس سے لڑے۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُنا شاہ بن شُجاع کِرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:حُسنِ اَخلاق اِیذارَسانی سے باز رہنا اور مشقتوں کو برداشت کرناہے۔
﴿4﴾…ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے قریب رہتے ہوئے ان میں اجنبی بن کر رہنے کا نام حُسنِ اَخلاق ہے ۔ 
﴿5﴾…حضرت سیِّدُناابو بکرمحمد بن مُوسیٰ واسِطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نےحُسنِ اَخلاق کی ایک تعریف یہ بھی فرمائی ہے کہ غمی اور خوشی میں مخلوق کو راضی رکھنا حُسنِ اَخلاق ہے۔
﴿6﴾…حضرت سیِّدُناابو عثمان مغربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّکو راضی کرنا حُسنِ اَخلاق ہے۔
﴿7﴾…حضرت سیِّدُناسَہْل بن عبداللہتُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے کسی نے پوچھا:حُسنِ اَخلاق کیا ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:حُسنِ اَخلاق کا ادنیٰ درجہ یہ ہے  کہتَحَمُّلمِزاجی کا مظاہرہ کیا جائے ،اِنتقام نہ لیا جائے، ظالِم پر شفقت ومہربانی کی جائے اور اس کے لئے دعائےمغفرت  کی جائے۔
﴿8﴾…ایک موقع پرحضرت سیِّدُناسَہْل بن عبداللہتُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے حُسنِ اَخلاق کے متعلق ارشاد فرمایاکہ حُسنِ اَخلاق یہ ہے کہ  رزق کے بارے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بدگمانی نہ کی جائے بلکہ اُسی پربھروسا رکھے۔نیز بندہ جس  چیزکا ضامن ہے اس میں اپنے  وعدے کوپورا کرے اور اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی فرماں برداری  کرے اور تمام اُمُور میں چاہے ان کا تعلُّق  حُقُوقُ اللہسے ہویا حُقُوقُ الْعِبادسےدونوں میں اس  کی نافرمانی کرنےسے بچے۔