﴿8﴾…حضرت سیِّدُناابوبکر کَتَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں کہ تصوُّف حُسنِ اَخلاق کا نام ہے تو جواِنسان تمہارے حُسنِ اَخلاق میں زیادتی کا باعث ہے گو یا اس نے تمہارے اندرتصوُّف کو بڑ ھایا ہے ۔
﴿9﴾…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ لوگوں سے حُسنِ اَخلاق کے ساتھ پیش آؤاور اعمال میں اُن سے الگ رہو۔
﴿10﴾…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:بد اخلاقی ایک ایسی آفت ہے کہ اس کے ہوتے ہوئےنیکیوں کی کثرت بھی فائدہ مند نہیں ہوتی اور حُسنِ اخلاق ایسی نیکی ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے بہت سی برائیاں بھی باعِثِ نُقصان نہیں ہوتیں۔
﴿11﴾…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے پوچھاگیا: عزت کیاہے؟ فرمایا :عزت وہ ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایاکہ
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ(پ۲۶،الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشکاللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
کسی نے آپ سے پوچھا:نَسَبی شرافت کیاہے؟ فرمایا :جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں وہ ہی نسبی شرافت میں سب سے اچھا ہے۔ہر عمارت کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی بنیاد حُسنِ اَخلاق ہے۔
﴿12﴾…حضرت سیِّدُنا عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جس نے بھی بلند مراتب پائے اس نے حُسنِ اَخلاق ہی کی بدولت پائے اور حُسنِ اَخلاق کا کمال حضورنبیّ کریم، رَ ء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ خاص ہے۔مخلوق میں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جوحُسنِ اَخلاق میں مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقے پر چلتے ہیں۔
دوسری فصل: حُسن اَخلاقِ اوربد اَخلاقی کی حقیقت
جان لیجئے کہ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اچھے اور بُرے اخلاق کی حقیقت میں اس حوالے سے توگفتگو کی ہےکہ یہ کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی اصل حقیقت پر گفتگو نہیں کی، صرف اس کے ثَمَرات کا ذکر کیا پھر دیکھا جائے تو انہوں نے اس کے تمام ثَمَرات و نتائج کا ذکر بھی نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اسی بات