Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
161 - 1245
 انسان کی کون سی خَصْلَت اچھی ہے؟فرمایا:’’دین۔‘‘پھر پوچھا: اگر دوہوں تو؟ فرمایا:’’دین اور مال۔‘‘پھر پوچھا اگر تین ہوں تو؟فرمایا:”دین، مال اور حیا۔‘‘ پھرپوچھا:اگرچارہوں تو؟فرمایا:’’دین،مال،حیااورحُسنِ اَخلاق۔“ پھر پوچھا:’’اگر پانچ ہوں تو؟فرمایا:’’دین ، مال ، حیا،حُسنِ اَخلاق اور سخاوت ۔‘‘ پھرپوچھا: اگر چھ ہوں ؟فرمایا:’’اے بیٹے! جب کسی میں یہ  پانچ خصلتیں  جمع ہوجائیں تو وہ کامل متقی،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاولی اور شیطان سے بَری ہے ۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: جس انسان  کا اَخلاق برا ہوتاہے وہ اپنے  آپ کو عذاب میں مبتلا کرتاہے۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :انسان اپنے حُسنِ اَخلاق کے سبب جنت کے اعلیٰ درجات پالیتا 
ہے حالانکہ وہ  کوئی عبادت گزار نہیں ہوتا اورانسان اپنے بُرے اَخلاق  کے سبب جہنم کے سب سے نچلے طبقے تک  پہنچ جاتا ہے باوجودیہ کہ وہ عبادت گزار ہوتاہے۔
﴿4﴾…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حُسنِ اَخلاق  رزق کا خزانہ ہے۔
﴿5﴾…حضرت سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:بداخلاق انسان  کی مثال اس  ٹو ٹے ہوئے گھڑے کی طرح  ہے جو قابل استعمال نہیں رہتا۔
﴿6﴾…حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں:اگر کوئی اچھے اخلاق والا فاسق میرا رفیق سفر ہویہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کوئی بداخلاق عابد میرا رفیق سفر ہو۔
بداَخلاق قابل رحم ہے :
	حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مبارکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ساتھ سفر میں ایک بداخلاق آدمی شریک ہوگیا آپ اس کی بد اَخلاقی پر صبر کرتے اور اس کی خاطِرمُدارات کر تے جب وہ جداہوگیا تو آپ رونےلگےکسی نے رونے کا سبب پوچھاتو فرمایا:میں اس پر ترس کھاکر رورہاہوں کہ  میں تو اس سے الگ ہوگیا لیکن اس کی بداخلاقی اس سے الگ نہ ہوئی۔
﴿7﴾…حضرت سیِّدُناجُنَیْدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:چارخصلتیں  انسان کو اعلیٰ مراتب  تک لے جاتی ہیں اگر چہ وہ علم اور عمل میں کم ہو:(۱)…بُردباری۔(۲)…تواضع۔(۳)…سخاوت۔(۴)…حُسنِ اَخلاق اورحُسنِ اَخلاق اِیمان کا کمال ہے۔