Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
160 - 1245
 (پردہ)کر لیا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہداخل ہوئے توپیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ارشادفرمایا :’’میں ان عورتوں پرمُتَعَجِّب ہوں کہ یہ میرے پاس موجودتھیں تمہاری  آواز سنی توحجاب (پردہ) کر لیا۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اس کے زیادۃ لائق  ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں پھر قریش کی اُن خواتین کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی  ہو اور رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے کہا: ہاں! آپرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بَنِسْبَت سخت طبیعت اور سخت گیر ہیں ۔تو رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اے ابْنِ خَطّاب!انہیں چھوڑو اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!جس راستے پرتم چلتے ہو شیطان بھی اس راستے کو چھوڑ کردوسرا راستہ اختیار کر لیتاہے۔(1)
﴿30﴾…سُوْ ءُالْخُـلُقِ ذَنْبٌ لَّا یُغْفَرُ وَسُوْ ءُ الظَّنِّ خَطِیْـئَةٌ تَـنُوْجُیعنی بد اخلاقی ایک ایسا گناہ ہے جس کی مغفرت نہ  ہوگی اور بد گمانی ایسی خطاہےجو دوسرے  گناہوں کاسبب بنتی ہے۔(2)
﴿31﴾…اِنَّ الْعَبْدَ لَیَبْلُغُ مِنْ سُوْ ءِخُلُقِہٖ اَسْفَلَ دَرْکَ جَھَنَّمَیعنی انسان اپنے بُرے اخلاق کے سبَب جَہَنَّم کے سب سے نچلے طبقے میں پہنچ جاتا ہے۔(3)
اچھے اور بُرے اَخلاق کےمتعلق 12اَقوالِ بزرگانِ دین:
﴿1﴾…حضرت سیِّدُنالقمان حکیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالکَرِیم کے صاحبزادے نے ان سے عرض کی: اے والد محترم !
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
………..تھی یا ان میں سے ہر ایک بی بی صاحبہ آہستہ آہستہ آواز سے بولتی تھیں۔ مگر سب آوازیں مل کر بلند ہوتی تھی یا یہ کہو کہ حضور کی آواز شریف پر اپنی آواز بلند کرنا یا بے ادبی سے اونچی آواز کرنا حرام ہے ۔مطلقاً بلند آواز کرنا منع نہیں یہبلندیِ آواز حرام نہ تھی( مرقات )لہٰذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ اَزواج پاک حضور عالی(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بارگاہ میں اونچی آواز سے کیوں کلام کرتی تھیں کیا حضور انور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے سامنے اذان نہیں ہوتی تھی اور اونچی آواز سے ہوتی تھی مگر یہ بُلندیِ آواز جائز تھی عَالِیَةً اَصْوَاتُہُنَّ سے مراد ہے کہ وہ روزانہ عادی آواز سے زیادہ آواز بلند کیے تھیں۔
1… بخاری،کتاب بدء الخلق،باب صفة ابليس وجنودہم،۲/ ۴۰۳، حديث:۳۲۹۴
2…مساویٔ الاخلاق للخرائطی،باب ماجاء فی سوء الخلق من الکراهة،ص۲۰، حديث:۷
3…مساویٔ الاخلاق للخرائطی،باب ماجاء فی سوء الخلق من الکراهة،ص۲۲، حديث:۱۲