Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
158 - 1245
﴿21﴾…اِنَّ حُسْنَ الْخُـلُقِ لَـیُذِیْبُ الْخَطَیْـئَةَ کَمَا تُذِیْبُ الشَّمْسُ الْجَـلِیْدَیعنی بے شک حُسنِ اَخلاق خطاؤں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح سورج  کی حرارت برف کو پگھلادیتی ہے۔(1)
﴿22﴾…مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ حُسْنُ الْخُـلُقِیعنی حُسنِ اَخلاق  بندے کی سعادت مندی   میں سے ہے۔(2)
﴿23﴾…اَ لْیُمْنُ حُسْنُ الْخُـلُقِیعنی برکت حُسنِ اَخلاق میں ہے ۔(3)
﴿24﴾…حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُناابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشادفرمایا: اے ابو ذر!تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں اور اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں۔(4)  (5)
﴿25﴾…اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنااُمِّ حَبِیْبَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حضورنبیّ رحمت،شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا کہ دنیا میں ایک عورت کے دوخاوند ہوں ( یعنی ایک کے انتقال کے بعدوہ  دوسرے سے نکاح کرےپھر) وہ عورت فوت ہوجائے اور اس کے دونوں خاوند بھی  فوت ہوجائیں اور وہ سب جنت میں چلے جائیں تو وہ عورت کس کے پاس رہے گی؟ارشاد فرمایا:دنیا میں جواس کے ساتھ زیادہ حُسنِ اَخلاق سے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی حسن الخلق،۶/ ۲۴۷، حديث:۸۰۳۶
2…شعب الايمان،باب فی حسن الخلق،۶/ ۲۴۹، حديث:۸۰۳۹
3…کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاوّل فی الاخلاق والافعال المحمودة،۳/ ۷، حديث:۵۱۹۳
4…سنن ابن ماجه،کتاب الزهد،باب الورع والتقوی،۴/ ۴۷۶، حديث:۴۲۱۸ دون’’یا ابا ذر‘‘
5…مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح،جلد6،صفحہ633پر’’تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں“ کے تحت فرماتے ہیں:’’ہاں عقل دو قسم کی ہے: عَقْلِ مَطْبُوع اور عَقْلِ مَسْمُوع تدبیر سے مراد عَقْلِ مسموع ہے کہ اس کے بغیر عَقْلِ مطبوع بے کار ہے۔عَقْلِ مسموع کبھی عَقْلِ مطبوع کے بغیر مفید ہوجاتی ہے ۔عَقْلِ مطبوع وہ ہے جو فطری طور پر یاتجْرِبہ یا عقل کے ذریعہ حاصل ہو ۔عَقْلِ مسموع وہ ہے جو حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعلیم سے حاصل ہوعَقْلِ مطبوع دُنیاوی اَنجام کو معلوم کرتی ہے ۔عَقْلِ مسموع اُخْرَوی اَنجام کا پتہ چلاتی ہے عَقْلِ مطبوع کے ساتھ جب عَقْلِ مسموع شامل ہو تو مفید ہے۔(مرقات)صفحہ 634 پر’’اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں‘‘کے تحت فرماتے ہیں:’’لغت میں حَسَب بمعنی ٰنَسَب ہے یا باپ کی طرف سے نَسَب،ماں کی طرف سے حَسَب مگر یہاں اس سے مراد شرافت ہےیعنی شرافت صرف نَسَب سے نہیں بلکہ اچھے اخلاق اچھے اعمال سے ہے رب تعالیٰ فرماتاہے:اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ (پ۲۶،الحجرات:۱۳،ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہکے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔)اچھی عادت میں عبادات،معاملات بلکہ ایمان وعرفان سب ہی داخل ہیں کتنی ہی تواضع کرے خوش اخلاق نہیں جس نے اللہرسول(عَزَّ  وَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے بگاڑ لی جو انھیں راضی نہ کرسکا وہ خوش اخلاق کہاں سے آیا ہے۔