تعلُّق کرے تم اس سے صلہ رحمی کرواور جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پرظلم کرے تم اسے معاف کردو۔(1)
﴿2﴾…اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِیعنی بے شک مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔(2)
﴿3﴾…اَثْقَلُ مَایُوْضَعُ فِی الْمِیْزَانِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تَقْوَی اﷲِ وَحُسْنُ الْخُـلُقِیعنی بروزِقیامت میزانِ عمل میں جو سب سے وزنی چیز رکھی جائے گی وہ تقوٰی اور حُسنِ اَخلاق ہے۔(3)
دین کیاہے؟
﴿4﴾…ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں سامنے کی جانب سے حاضر ہوکر عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!دین کیا ہے؟ارشادفرمایا:’’حُسنِ اَخلاق۔‘‘پھروہ داہنی طرف سے آیااورعرض کی:دین کیا ہے؟ ارشادفرمایا:’’حُسنِ اَخلاق۔‘‘پھر وہ بائیں جانب سے آیا اورعرض کی:دین کیاہے؟فرمایا:’’حُسنِ اَخلاق۔‘‘پھر وہ پُشت کی جانب سے آیااور عرض کی:دین کیاہے؟ پھرارشاد فرمایا:’’حُسنِ اَخلاق۔ ‘‘پھراس کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا:’’ کیا تو اسے نہیں سمجھا اس کا مطلب یہ ہے کہ تو غصہ نہ کرے۔‘‘
﴿5﴾…بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مَاالشُّؤْمُیعنی نحوست کیا ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فر مایا:’’سُوْءُ الْخُـلُقیعنی بداَخلاقی۔‘‘(4)
﴿6﴾…ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے نصیحت فرمائیے! توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’تم جہاں بھی ہواللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتے رہو۔‘‘اس نے عرض کی: مزید کچھ فرمائیے!ارشادفرمایا: ’’برائی کے بعد نیکی کرلو کہ وہ برائی کو مٹادے گی۔‘‘عرض کی: کچھ اورفرمائیے!ارشادفرمایا:’’ لوگوں کے ساتھ اچھے اَخلاق سے پیش آؤ۔ ‘‘(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی صلة الارحام،۶/ ۲۲۲، حديث:۷۹۵۹ باختصار
2…شرح السنة للبغوی،کتاب الفضائل،باب فضائل سيد الاولين والاٰخرين،۷/ ۹، حديث:۳۵۱۶
3… سنن الترمذی ،کتاب البروالصلة،باب ماجاء فی حسن الخلق،۳/ ۴۰۴، حديث:۲۰۰۹،۲۰۱۱
4…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندالسيدة عائشة رضی الله عنها،۹/ ۳۶۹، حديث:۲۴۶۰۱
5… سنن الترمذی،کتاب البروالصلة،باب ماجاء فی معاشرة الناس،۳/ ۳۹۸، حديث:۱۹۹۴ ملتقطًا