بیماری سے صرف فانی زندگی ہی ختم ہوتی ہے تو قلبی امراض کے لئے علاج کے قوانین کے سلسلے میں کوشش کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دل کی بیماری میں دائمی وابدی زندگی ختم ہوجاتی ہے،لہٰذا اس روحانی علاج کا سیکھنا ہر عقل مند آدمی پر لازم ہے کیونکہ کوئی بھی دل بیماریوں سے خالی نہیں ہوتا اگر دلوں کو یوں ہی بلا علاج چھوڑ دیا جائے تو کئی بیماریاں پیدا ہوں گی اور وہ غالب آجائیں گی،توہر بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان بیماریوں کی وجوہات اوراسباب کو پہچانے اوران کے علاج کی اَنتھک کوشش کرے اسی علاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿۹﴾۪ۙ (پ۳۰،الشمس:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا۔
اور اسے چھوڑ دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ قَدْ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾(پ۳۰،الشمس:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چُھپایا ۔
ہم اس باب میں دل کی بیماریوں اور مجموعی طور پر ان کے علاج کے بارے میں بتائیں گے،خاص بیماریوں کے علاج کی تفصیل میں نہیں جائیں گے، تفصیلی بیان اس باب کے دوسرے حصوں میں آئے گا اور ہمارا یہاںمقصوداخلاق کو سنوارنے اور اس کے طریقے کو بیان کرنا ہے ۔اب ہم اسے بیان کرتے ہیں اور بدن کے علاج کو اس کی مثال قرار دیتے ہیں تاکہ سمجھنا آسان ہواور یہ بات حُسنِ اخلاق کی فضیلت بیان کرنے سے واضح ہوگی، پھر حُسنِ اَخلاق کی حقیقت بیان ہوگی، اس کے بعد ان اخلاق کی قبولیت جو ریاضت سے بدل جاتے ہیں پھر اُس سبب کا بیان ہوگا جس کے ذریعے حُسنِ اَخلاق حاصل ہوتا ہے، پھر ان طریقوں کو بیان کیا جائے گا جن کے ذریعےاخلاق کو سنوارنے کے راستوں کی پہچان ہوتی اور ریاضت ِ نفس کا پتا چلتا ہے۔ پھر وہ علامات بیان ہوں گی جن کے ذریعے دل کی بیماری کی پہچان ہوتی ہے، اس کے بعد ان طریقوں کا بیان ہوگا جن کے ذریعے انسان اپنے نَفْس کے عیبوں کو پہچان لیتا ہے، پھر اس بات پر نقلی دلائل پیش کئے جائیں گے کہ دلوں کا علاج صرف خواہشات کو چھوڑنے میں ہے، بعد ازاں حُسنِ اخلاق کی علامات کا بیان ہوگا، اس