ریاضت نفس(1)کابیان
(اس میں ایک مقدمہ اور دوابواب ہیں)
مقدمہ:
تمام تعریفیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئےہیں جس نے اپنی تدبیر سے اُمور میں تَصَرُّف فرمایا، مخلوق کی ترکیب میں اِعْتِدال قائم کرتے ہوئے اس کی صورت میں حُسن رکھا، انسانی صورت کو اچھے قالب سےزینت دی۔ اسے شکل وصورت اور مقدار میں کمی زیادتی سے محفوظ رکھا، اَخلاق کو اچھا بنانے کا کام بندے کی کوشش میں رکھا۔ اسے ڈراتے ہوئے اَخلاق کوسنوارنےکی ترغیب دی اور اپنی توفیق کے ذریعے اپنے خاص بندوں پراَخلاق کو سنوارنےکا عمل آسان کردیا اور مشکل ودشوارکاموں کوان پر آسان کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ درودوسلام ہواللہ عَزَّ وَجَلَّکے بشیرو نذیرمحبوب بندےحضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر۔ نَبُوَّت کے اَنوار اُن کی مُقَدَّس پیشانی کے درمیان چمکتے ہیں اور حقیقت ِ حَقّ اُن کی بشارتوں سے جھلکتی ہے اوردُرُوْد و سلام ہو ان کے آل واصحاب پر جنہوں نے اِسلام کے رُخِ روشن کو کفر کی سیاہی اورتاریکی سے پاک کیااور باطل کے مادے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا اور اس کی مَیْل سے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، خود کو محفوظ رکھا۔
حُسنِ اخلاق رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صِفَت اورصِدِّیْقِیْن کااَفضل عمل ہے۔ درحقیقت یہ نِصْف دین اورمُتَّقِیْن کے مجاہدے کا ثمر ونتیجہ اور عبادت گزار وں کی ریاضت ہے جبکہ بُرے اَخلاق زہر قاتل ،جان لیوا،ذِلَّت ورُسوائی اور ربعَزَّ وَجَلَّ کے جوارِ رحمت سے دوری جیسی برائیوں پر مشتمل ہیں۔نیزبداخلاقی انسان کو شیطانی گروہ میں داخل کرتی ہے،یہی وہ دروازے ہیں جواللہعَزَّ وَجَلَّ کی جلائی ہوئی آگ کی طرف کھلتے ہیں جو دلوں پر چڑھتی ہے۔جیساکہ اچھے اخلاق وہ دروازے ہیں جو دلوں سے جنت کی نعمتوں اور رب تعالیٰ کے جوارِ رحمت کی طرف کھلتے ہیں ۔بُرے اخلاق جسم وروح کی وہ بیماریاں ہیں جن سےابدی حیات ختم ہوجاتی ہے اس مرض کا ان سے کیا مقابلہ جو صرف حیات ِ جسمانی کو زائل کرتاہے۔جب اَطِبّا اس بات کی سخت ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ بدن کے لئے قوانین مقرر کئے جائیں حالانکہ بدن کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نفس کو اچھے اخلاق کی تعلیم دینے کا نام ریاضت ہے ۔(الحديقة الندية،۱/ ۴۵۲)