عبادت کی راہ پر لگایا،اسی نےجَہَنَّم اور اہْلِ جہنم کو پید اکیا اور اِنہیں گناہ پر اختیار دیااور مخلوق کو اہل جنت اور اہل نار کی علا مت کی پہچان کروادی۔ ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿۱۳﴾ۚ وَّ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ ﴿۱۴﴾ۚۖ (پ۳۰،الانفطار:۱۴،۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک نکوکار ضرور چین میں ہیں اور بے شک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں۔
حدیث قدسی میں ہے: یہ لوگ جنت میں ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں اور یہ لوگ جہنم میں ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ (1)
بہت بلندی والا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ سچا بادشاہ:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ (پ۱۷،الانبیآء:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اُس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور اُن سب سے سوال ہوگا۔
عجائِبِ قَلْب کے بیان میں ہم اسی مختصر گفتگو پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ اس کا مکمل اِحاطہ عِلْمِ مُعامَلہ میں مناسب نہیں، ہم نے عُلُومِ معاملہ کے اَسرار ورُمُوز کی مَعْرِفَت کے لئے ضروری باتوں کو ذکر کر دیا ہےتا کہ وہ شخص بھی اس سے فائدہ اٹھالے جو ظاہر پر قناعت نہیں کرتااور مَغْز کے بجائے چھلکے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسے اسباب کے دقیق حقائق کو جاننے کا شوق ہو تا ہے۔ ہماری ذکر کردہ گفتگو سے اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی اور اسے تسلی مل جائے گی۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم سے’’عجائِبِ قلب کا بیان‘‘ مکمل ہوا
٭…٭…٭…٭…٭
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾
﴿ تُوْبُوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ ﴾
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندالشاميين،حديث عبدالرحمٰن بن قتادة،۶/ ۲۰۶، حديث:۱۷۶۷۶