Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
149 - 1245
کے لئے بنے ہیں ان کے لئے گناہوں کے اسباب آسان کر دیے جا تے ہیں اور ایسے شخص پر بُرے دوست مُسَلَّط کر دیے جاتے ہیں اور اس کے دل پر شیطان کو غلبہ دے دیا جاتا ہے کیونکہ شیطان ایسے بے وقوفوں کو بےشمار طریقوں سے دھوکے میں ڈالتا ہے، کبھی کہتا ہے:”اللہ عَزَّوَجَلَّ رحیم ہے لہٰذا تو بے فکر ہو جا اور سب لوگ بھی تو خوف خدا نہیں رکھتے، ان سے الگ طریقے پر مت چل، ویسے بھی عمر طویل ہے  ابھی ٹھہر جا کل توبہ کر لینا۔“
	اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیۡہِمْ ؕ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲۰﴾(پ۵،النسآء:۱۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے۔
	یعنی شیطا ن انہیں توبہ کا وعدہ دیتا اور مغفرت کی آرزو دلاتا ہے اور اس طرح  ان حیلوں اور ان جیسی دیگر چالوں  کے ذریعےانہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے مطابق ہلاک کر دیتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ شیطان کے دھوکے کو قبول کرنے کے لئے اس کے دل کو کشادہ کر دیتا ہے اور حق کو قبول کرنے سے اس کے دل کو تنگ کر دیتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قضاءوتقدیر سے ہو تا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ وَمَنۡ یُّرِدْ اَنۡ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ؕ (پ۸،الانعام:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کردیتا ہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے۔
	اور ارشاد فرماتاہے:
اِنۡ یَّنۡصُرْکُمُ اللہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ ۚ وَ اِنۡ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ ؕ(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے۔
	تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہدایت دیتا اور گمراہ کرتا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے ،جوچاہے حکم فرماتا ہے،اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں،اس کے فیصلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں،اس نے جنت اور اہل جنت کو پیدا کیااور انہیں