Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
148 - 1245
 مخالفت کررہےہوتو نارِجَہَنَّم کی گرمی کے خوف سے ان کی مخالفت کیوں نہیں کر رہے؟“ چنانچہ اس وقت نفس فرشتے کی فرمانبرداری  کرنے لگتا ہے۔
شیطانی صفات غالب ہوں تو شیطان غالب آجاتا ہے:
	دل دو لشکروں کے مابین مُتَردِّد اور دو گروہوں کی کھینچا تانی کے درمیان رہتا ہےحتی کہ اس پر وہ گرو ہ غالب آجاتا ہے جو اس کے زیادہ لا ئق ہو تا ہے،اگر دل پر شیطانی صفات غالب ہوں جنہیں ہم ذکر کر چکے ہیں تو شیطان غالب آجاتا ہے اوروہ اپنی جنس یعنی شیطانی جماعت کی طرف مائل ہو جا تا ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے اولیاکی جماعت  سے منہ موڑکرشیطانی جما عت اوردشمنان خدا کا ساتھ دینے لگتاہےاور تقدیر کے سبقت لے جانے کے سبب اعضاءسے وہ افعال صادر ہو تے ہیں جو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دور کردیتے ہیں۔
فرشتوں والی صفات غالب ہوں تو شیطان ورغلا نہیں سکتا: 
	اگر دل پرفرشتوں والی صفات غالب ہوں تو دل شیطان کے ورغلانے پر نہ تو دنیا کی طرف مائل ہوتا ہے اور نہ ہی آخرت سے غافل ہوتا ہے بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی جماعت کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور تقدیرِ الٰہی کے مطابق اعضاء نیکیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
	 حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان:”مومن کا دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے“اس سے مراد  بھی یہی ہے کہ دل ان دولشکروں کی کھینچا تانی میں رہتا ہے اور اکثر ایسا ہی ہو تا ہے کہ دل بدلتا رہتا ہے اور ایک گروہ سے دوسرے گروہ کی جانب منتقل ہوتا رہتا ہے اور اکثر فرشتوں کے ساتھ جبکہ شاذ ونادر شیطان کی جماعت کے ساتھ رہتا ہے اور یہ عبادات اور گناہ دل کے واسطے سےغیب کے خزانوں سے ظاہری دنیا کی طرف ظاہر ہوتے ہیں کیو نکہ دل ملکوت کے خزانوں میں سے ہے اور نیکی و گناہ بھی۔پس اعمال کے ظُہُور کی کچھ علامات ہیں جنہیں تقدیرِالٰہی کا علم رکھنے والے نیک لوگ ہی جانتے ہیں۔ 
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نافرمان کا دل تنگ کردیتا ہے:
	جولوگ جنت کے لئے پیدا ہوئے ان کے لئے عبا دت کے اسباب آسان کر دیئے جاتے ہیں اور جو دوزخ