ہیں اور اسی وقت ایمان کے خواطر بھی آتے ہیں اور اسے خیر کی طرف بلاتے ہیں،چنانچہ نفس خواہشات کے ذریعے شر کے خاطر کی مدد کے لئے تیار ہوجاتا ہے،شہوت کو تقویت دیتا ہے اور لذت وراحت پہنچانے والی اشیاء کو خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ عقل خیر کے خاطر کی مدد کرتی ہے اور شہوت کے اسباب کو دور کرتی ہے اور ان افعال کی برائی بیان کرکے ان کو جہالت کی طرف منسوب کرتی ہے اور نفس کو یہ بتلاتی ہے کہ یہ چوپایوں اور درندوں کے اَفعال کے مشابِہ ہیں کہ وہ انجام کی پروا کیے بغیر ہی شَر پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
شیطان کاعقل پر حملہ اور فرشتے کی نصیحت:
نفس جب عقل کی نصیحتوں کی طرف ما ئل ہونے لگتا ہے تو شیطان عقل پر حملہ کر دیتا ہے اور نفسانی خواہش کے داعی کو تقویت پہنچا تا ہے اور کہتا ہے:”خواہ مخواہ خود کو کیوں تنگی میں ڈال رہے ہو اوراپنی خواہش کو پورا نہ کرکے اپنے آپ کو کیو ں اذیت پہنچا رہے ہو؟کیا تمہارے ہم عصروں میں کوئی ایسا ہے جواپنی خواہشات کا مخالف اور اپنی اَغراض کا تارک ہو؟کیا دنیا کی لذتیں ان کے لئے چھوڑرہے ہو کہ وہ ان سے نفع اٹھائیں اور خود پر تنگی ڈال رہے ہو یہاں تک کہ بد نصیب ،بدحال اور لوگوں کی ملامت کا شکارہو جاؤ اوردنیا والےتم پر ہنسیں؟ کیا تم فلاں اورفلاں سے اپنا منصب بڑ ھانا نہیں چاہتے؟تمہاری طرح ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی لیکن انہوں نے تواپنی خواہش کوپورا کیا اور اس کی تکمیل سے نہ رُکے،کیاتم فلاں عالِم کو نہیں دیکھتےوہ تو ان چیزوں سے نہیں بچتا،اگر یہ چیزیں بُری ہو تیں تو ضرور وہ ان سے رُک جاتا۔“ چنانچہ نفس شیطان کی طرف مائل ہونے اور اس کی طرف پلٹنے ہی لگتاہے کہ فرشتہ شیطان پر حملہ کر دیتا ہے اور نفس سے کہتا ہے:”وقتی لذت کے پیچھے جانے والےاور آخرت کو بھول جانے والےلوگ ہی ہلاک ہو ئے،کیا تم معمولی سی لذت پر قنا عت کر رہے ہو اور ہمیشہ رہنے والی جنت کی لذّتوں اور نعمتوں کو چھوڑ رہے ہو؟کیا خواہشات پر صبر کر نے کی تکلیف کو نارِ جَہَنَّم کی تکلیف سے بھاری سمجھ رہے ہو؟کیا لوگوں کے غفلت برتنے، خواہشات کی پیروی کرنےاور شیطان کا ساتھ دینے کے سبب دھوکا کھا رہے ہو حالانکہ دوسروں کے گنا ہوں کے سبب تمہارے لئے آگ میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر سخت گرمی ہو اور سب لوگ دھوپ میں کھڑے ہوں جبکہ تمہارے لئے ایک سایہ دارٹھنڈا گھر ہو تو تم لوگوں کی مدد کرو گے یا خود کو بچانے کی کوشش کرو گے؟ (یقیناً اپنا بچاؤ کروگے)جب سورج کی گرمی کے خوف سے لوگوں کی