اور ارشاد فرماتا ہے:
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤی اَکْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۷﴾ (پ۲۲،یٰس:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے تو وہ ایمان نہ لائیں گے۔
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمْ ءَاَنۡذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنۡذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾ (پ۲۲،یٰس:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور انہیں ایک سا ہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں۔
شہوات کے معاملے میں دلوں کی حالتیں:
بعض شہوات کے معاملے میں کچھ دلوں کی حالت اس شخص کی طرح ہوتی ہے جوبعض اشیاء سے پرہیز کرتا ہے لیکن جب کسی حسین چہرے کو دیکھ لیتا ہےتو اس کی آنکھ اور دل قابو میں نہیں رہتے ،عقل بہک جاتی ہے،دل پر اس کی گِرِفْت کمزور پڑجاتی ہےیاان کی حالت اس شخص کی سی ہو تی ہے جو جاہ ومنصب ،حکومت اور مرتبہ کے معاملے میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتا حتّٰی کہ ان اسباب کے ظُہُور کے وقت ان سے بچنا اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہوتا یا ان کی حالت اس شخص کی مثل ہو تی ہےکہ جس کے عیب بیان کیے جائیں یا اسے حقیر سمجھا جا ئےتو وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتا یاان کی حالت اس شخص جیسی ہو تی ہے جودرہم ودینار کے لینے پر قدرت حاصل ہو نے کی صورت میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتا بلکہ مال کی حرص میں دوسرے پر دیوانے کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے اور اس سلسلے میں مروّت اور تقوٰی کوبھول جاتا ہے۔
یہ سب باتیں اس لئے ہو تی ہیں کہ نفسانی خواہش کا دھواں دل کی طرف اٹھتا ہے یہاں تک کہ وہ تاریک ہو جاتا ہے اور اس سبب سے اس کے انوار گُل ہو جاتے ہیں اور اس طرح حیا،مُروَّت اور ایمان کا نور بجھ جاتا ہے اوردل شیطان کی مراد حاصل کرنےکی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔
خواہش نفس اور ایمانی خیالات میں گھرا دل:
﴿3﴾…ایک دل وہ ہوتا ہے جس میں خواہشات نفسانی کے خواطِر پیدا ہوتے ہیں اور اسے شر کی طرف بلاتے