Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
145 - 1245
کے لئے بند ہوجاتے ہیں۔ اس دل میں شَر کا آغاز یوں ہو تا ہے  کہ اس میں خواہشات نفسانی کا خاطر(یعنی خیال)آتا اور کھٹکتا ہے تو دل رائے لینے اور اس  معاملےمیں درست صورت کےاِنْـکِشَاف کے لئے حاکم یعنی عقل  کی طرف نظر کرتا ہے اور  عقل چونکہ پہلے ہی نفسانی خواہشات کی خدمت کو پسند کرتی ہے اور اس سے مانوس ہو تی ہے اور اس کے لئے نئے نئے حیلے تلاش کرتی رہتی ہےاور اس کا ساتھ دیتی رہتی ہے پھر نفس بھی غالب آجاتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے تو یوں نفسانی خواہش کے لئے سینے کے دروازے کھل جاتے ہیں اور سینہ اس کی تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے کیونکہ عقل کا لشکر اسے دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا اور اس طرح شیطان کا غَلَبہ مضبوط ہو جاتا ہے کیو نکہ دل میں نفسانی خواہشات پھیل جانے کی وجہ سے اس کی جگہ وسیع ہو چکی ہوتی ہے۔ اب شیطان ظاہری زیب و زینت ،مکر وفریب اور جھوٹی امیدوں کے ذریعے دل کو پھنساتا ہے اور دھوکا دینے کے  لئے خوش نُما باتیں دل میں ڈالتاہے اس طرح وعدہ اور وعید پر ایمان کا غلبہ کمزورپڑ جاتا ہے اور خوفِ آخرت کی وجہ سے پیدا ہونے والے یقین کا نور بجھنے لگتا ہے کیو نکہ نفسانی خواہش کی وجہ سے ایک سیاہ دھواں دل کی طرف اٹھتا ہےجو اس کے اَطراف کو بھر دیتا ہے حتّٰی کہ دل کے انوار بجھ جاتے ہیں۔
	ایسے شخص کی عقل اس آنکھ کی طرح ہو جاتی ہے جس کی پلکیں دھوئیں سے بھر جائیں اور وہ دیکھنے پر قادر نہ ہو سکے اور غلبۂ شہوت کی صورت میں دل کی بھی یہی کیفیت ہو جا تی ہے حتی کہ دل کے لئے غور و فکر اور سوچ بچار کا امکان بھی باقی نہیں رہتا،اگر کوئی واعظ اسے حق بات  دکھائے یا سنائے تو وہ اس کے سمجھنے سے اندھا اور سننے سے بہرا ہو جا تا ہے ،اس میں شہوت بھڑک اٹھتی ہے ،شیطان دھاوا بول دیتا ہے ،اعضاء خواہش کے مطابق حرکت کرتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قَضاء وقَدر کے سبَب عالَم غیب سے عالَم شہادت کی طرف معصیت کا ظہور ہو تا ہے اوراسی قسم کے دل کی طرفاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ان فرامین میں اشارہ ہے:
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَہُمْ یَسْمَعُوۡنَ اَوْ یَعْقِلُوۡنَ ؕ اِنْ ہُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۴۴﴾ (پ۱۹،الفرقان:۴۴،۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تم نے اُسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لوگے یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ اُن سے بھی بدتر گمراہ۔