سلسلہ یو ں ہی جاری رہتا ہے، خیر کی ترغیب اور اس پر معاملے کو آسان کرنے کے ذریعے اس کی امداد کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ اسی کی طرفاللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاس فرمان میں اشارہ ہے:
فَاَمَّا مَنۡ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۙ﴿۶﴾ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی ؕ﴿۷﴾ (پ۳۰،الیل:۵ تا۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیاکر دیں گے۔
اس طرح کے دل میں مشکاۃِرَبُوْبِیَّت کے چراغ کا نور(یعنی نورِالہٰی) چمک اٹھتا ہے حتی کہ وہ شِرکِ خفی بھی اس سے پو شیدہ نہیں رہتا جو اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کےرینگنے کی آواز سے بھی زیادہ خفی ہوتاہے۔ چنانچہ اس نوری قلب پر کوئی مخفی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہتی اور نہ ہی کوئی شیطانی مکر اس پر چلتاہے بلکہ شیطان دورہی سے معائنہ کرتا رہتا ہے اور دھوکا دینے کے لئے خوش نما باتیں اِلقا کرتا ہے لیکن یہ شخص اس کی طرف التفات نہیں کرتا۔ یہ دل مُہْلِکات سے پاک ہونے کے بعد جلد ہی مُنْجِیات مثلاً شکر، صبر، خوف، امید،فَقْر، زُہد،محبت، رِضا، شوق، توکُّل،تَفَـکُّر اور محاسَبہ وغیرہ سے معمور ہوجاتا ہے۔ ان مُنْجِیات کوعنقریب ہم ذکر کریں گے۔
یہی وہ دل ہے جس کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور یہی وہ قلب ِ مطمئن ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ان دو فرامین میں مراد ہے:
﴿1﴾…
اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾ (پ۱۳،الرعد:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
﴿2﴾…
یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ﴿۲۷﴾٭ۖ(پ۳۰،الفجر:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اے اطمینان والی جان۔
خواہشات نفس سے لبریز دل:
﴿2﴾…ایک دل وہ ہوتا ہے جو تائیدِالٰہی سے محروم، نفسا نی خواہشات سے بھرا ہوا، گندگیوں سے آلودہ اور قابِل مَذمَّت عادات میں ملوث ہوتاہے۔ اس دل کے دروازےشیا طین کےلئے کھلے رہتے ہیں اور فرشتوں