مثال اس چڑیا کی سی ہے جو ہر لمحہ جگہ بدلتی رہتی ہے ۔(1)(۲)دل کی مثال بدلنے میں ہا نڈی جیسی ہے جب اس میں خوب جوش آتا ہے ۔(2)(۱)دل کی مثا ل پرندے کے اس پر کی سی ہے جو بیابان میں پڑا ہو اور ہوائیں اسے اُلٹ پلٹ کرتی ہوں۔(3)
جب معاملہ ایسا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بنائی ہو ئی اس عظیم چیز دل کے بدلنے اور اس کے عجائبات پر صرف وہی حضرات واقف ہو سکتے ہیں جوذاتِ باری تعالیٰ کو ملحوظِ خاطر رکھتےہوئےاپنے دلوں کی نگر انی کرتےاور اپنے اَحوال کی حفاظت کرتے ہیں۔
دل کی اقسام:
خیر اور شر پر قائم رہنےاور ان دونوں میں سے کسی ایک پر نہ جمنے کے اعتبار سے دل کی تین اقسام ہیں۔
تقوٰی سے آباددل:
﴿1﴾…ایک دل وہ ہوتا ہے جسے تقویٰ سےآباد کیا گیا ہو ،ریاضت کے ذریعے جس کا تزکیہ کیا گیا ہو اور برے اَخلاق سےجسے صاف کرلیا گیا ہو، اس میں خیر کے خواطِر غیب کے خزانوں اور عالَم مَلَکُوْت سے آتے ہیں،عقل اس قسم کےخاطرمیں چُھپی بھلائی کو پہچاننے اور پوشیدہ فوائد پر مُطَّلَع ہو نے کے لئے اس میں غور وفکر کرنے میں مشغول ہوجاتی ہے،جب بصیرت کے نور سےاس کی صورت مُنکَشِف اور واضح ہو جاتی ہے تو عقل اس بات کا فیصلہ کر لیتی ہے کہ اسے ایسا ضرور کرناچاہئے۔ چنانچہ وہ قلب کو اس فعل کی ترغیب دیتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی طرف بلاتی ہےاور فرشتہ جب یہ دیکھتا ہے کہ دل اصل خِلْقت کے اعتبار سے پاک، تقوٰی کے ذریعے صاف، عقل کے نور سے روشن اور معرفت کے انوار سے معمور ہے تو اسے اپنے ٹھہرنےاور اُترنے کے لئے بہتر مقام تصوُّر کر تاہے۔ اس وقت وہ فرشتہ نظر نہ آنےوالے لشکروں کے ساتھ اس کی مدد کرتاہے اور خیر کے دوسرے کاموں کی طرف اس کی راہنمائی کرتاہے حتّٰی کہ ایک نیکی دوسری کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی الخوف من الله،۱/ ۴۷۴، حديث:۷۵۵ بتغير
2…المسندللامام احمدبن حنبل،حديث المقدادبن الاسود،۹/ ۲۱۷، حديث:۲۳۸۷۷ بتغير
3…شعب الايمان،باب فی الخوف من الله،۱/ ۴۷۳، حديث:۷۵۱