Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
142 - 1245
 میں اتر کر اس کو خواہش سےپھیر دیتا ہے،اگر ایک شیطان  کسی برائی کی طرف کھینچتا ہے تو دوسرا شیطان دوسرے شر کی طرف لے جاتا ہے ،اسی طرح ایک فرشتہ ایک بھلائی کی طرف بلاتا ہے تو دوسرا فرشتہ دوسری بھلائی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ کھینچاتانی کبھی دو فرشتوں کے درمیان ہوتی ہے، کبھی دو شیطانوں کے درمیان اور کبھی فرشتہ اور شیطان کے درمیان ہوتی ہے۔الغرض!دل لمحہ بھر بھی اس حالت کے بغیر نہیں پایا جاتا۔ اسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کےاس فرمان میں اشارہ ہے:
وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَہُمْ وَ اَبْصَارَہُمْ (پ۷،الانعام:۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم پھیر دیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو۔
	حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بنائی ہو ئی اس عظیم چیز کے عجائبات اور اس کے بدلتے رہنے پر مُطَّلَع تھے اس لئے آپ اس طرح قسم کھایا کرتے:”لَاوَمُقَلِّبِ الْقُلُوْب یعنی قسم ہے!دلوں کو بدلنے والے کی۔“ (1)
	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثر یہ دعا کیا کرتے:”یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْـنِک یعنی اے دلوں کو بدلنے والے! میرے دل کو اپنے دین پرثابت قدم رکھ۔“ (2)صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ کو بھی(دل کے بدلنے کا)خوف ہے؟“ ارشاد فرمایا:”میں کیسے بے خوف ہوسکتا ہوں  جبکہ دل رحمٰنعَزَّ  وَجَلَّ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اسے بدل دیتا ہے۔“(3)
	ایک دوسری حدیث میں اس طرح ہے:”اگر سیدھا کرنا چاہتا ہے تو سیدھا کردیتا ہے اور ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے تو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔“(4)
دل کی تین مثالیں:
	حضورنبیّ اکرم،نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دل کی تین مثالیں بیان فرمائی ہیں:(۱)دل کی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الايمان والنذر،باب کيف کانت يمين  النبی،۴/ ۲۸۲، حديث:۶۶۲۸
2…المسندللامام احمد بن حنبل،مسندالشاميين،حديث النواس بن سمعان،۶/ ۱۹۸، حديث:۱۷۶۴۷
3… مسلم،کتاب القدر،باب تصريف الله تعالٰی کيف يشاء،ص۱۴۲۷، حديث:۲۶۵۴
4…المسندللامام احمد بن حنبل،مسندالشاميين،حديث النواس بن سمعان،۶/ ۱۹۸، حديث:۱۷۶۴۷