Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
141 - 1245
دنیا شیطانی وسوسوں کا ایک بڑا دروازہ ہے:
	جو دنیا میں عیش وعشرت کی زندگی گزارے اور چاہے کہ شیطان سے چھٹکارا مل جا ئےتو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو شہد میں غوطہ لگائے  اور یہ توقع رکھے کہ اس پر مکھیاں نہ بیٹھیں گی تو یہ محال ہے۔ دنیا شیطانی وسوسوں کا ایک بڑا دروازہ ہےاور شیطان کا صرف ایک دروازہ نہیں بلکہ بےشمار دروازے ہیں۔
خود پسندی میں مبتلا کرنا شیطان کا آخری حربہ ہے:
	کسی دانا کا قول ہے:شیطان ابن آدم کے پاس گناہ کی راہ سے آتا ہے اگر وہ اس کی بات نہیں مانتا تو نصیحت کا راستہ اپناتا ہے حتّٰی کہ اسے بدعت میں مبتلا کر دیتا ہے ،اگر ابنِ آدم اس کا  یہ راستہ بھی بند کر دے  تو اسے تنگی اختیار کرنے اور خود پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے حتّٰی کہ جو چیز حرام نہیں ہو تی انسان اسے بھی خود پر حرام کر لیتا ہے، اگر انسان اس کی اس بات پر بھی کان نہیں دھرتا تو شیطان اسے وُضو اور نماز کے دوران شکوک وشُبہات میں مبتلا کر تا ہے حتی کہ اسے یقین نہیں رہتا ،اگر اس طرح بھی قابو نہ آئے تو اس پر نیکی کے کاموں کو آسان کر دیتا ہے حتی کہ لوگ اسے صابر اور گنا ہوں سے پاک وصاف سمجھ کر اس کی طرف راغِب ہونے لگتے ہیں اور یوں وہ خود پسندی میں مبتلا ہو جاتا ہے  اور اسی کےسبب شیطان اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
	اس موقع پر شیطان اپنی تما م تر قو ت صَرف کردیتا ہے کیو نکہ یہ آخری موقعہ ہو تا ہے اورشیطان جا نتا ہے کہ اگر اس بار یہ ہاتھ سے نکل گیا تومیرے وار سے بچ کر سیدھاجنت میں چلا جائے گا۔
آٹھویں فصل:	دل کے تیزی سے بدلنے کا بیان اور ثابت قدم رہنے
اور نہ رہنے والا دل
	جان لو!جیساکہ  ہم بیان کرچکے ہیں کہ دل مختلف صِفات کے گھیرے میں ہے اور اس پر ہم روایات وواقعات بھی بیان کر چکے تو گویا دل ایک ہدف  ہے جس پر ہر جانب سے  مسلسل تیروں کی با رش ہو تی رہتی ہے۔ جب اس پر کوئی چیز آتی ہے جس کا اثر وہ قبول کرتا ہے تو دوسری طرف سے اس کے برعکس  چیز آجاتی ہے اور اس کی پہلی صِفَت بدل جاتی ہے، اگر دل میں  شیطان آکر اسے خواہش کی طرف بلاتا ہے  تو فرشتہ اس