یعنی جس نے دو رکعات اس طرح پڑھیں کہ کسی امْرِ دنیا کا خیال نہ لائے تواس کے پچھلے تما م گنا ہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“(1)
اگر بوقت ذکروسوسوں کا مکمل طور پر ختم ہو نا نا ممکن ہوتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ بات ہرگز نہ فرماتے، البتہ ایسا صرف اسی دل میں ممکن ہے جس میں محبت غالب ہو جا ئے حتی کہ اس شخص کی طرح ہوجائے جو اپنے محبوب کے علاوہ کسی کی نہیں سنتا ۔
ایمان کی کمزوری:
ہم دیکھتے ہیں کہ جب دل اس دشمن کے خیال میں گھرا ہو جس سے اسے اذیت پہنچتی ہے تو بعض اوقات دو رکعات یا اس سے زیادہ رکعات کی مقدار وہ اس سےمقابلے کے بارے میں سوچتارہتا ہےحتی کہ اس کےدل میں اپنے دشمن کے علاوہ کسی کا خیال نہیں آتا۔اسی طرح جو شخص محبت میں ڈوبا ہوتا ہےوہ کبھی دل ہی دل میں اپنےمحبوب کے ساتھ بات چیت کرنے کے تصوُّر میں اس طرح گم ہوجا تا ہے کہ اس کے دل میں سوائے محبوب کے خیال کے اور کچھ نہیں آتا، اگر کوئی دوسرا شخص اس سےگفتگو کرے تو وہ نہیں سنتا ،اگر کوئی شخص اس کے سامنے سے گزر جائے تو اس کی حالت یہ ہو تی ہے گویا اس نے اس کو دیکھا ہی نہیں۔
جب دشمن کے خوف اور مال وجاہ کی حرص کے وقت اِسْتِغْراق کی یہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے تو دوزخ کے خوف اور جنَّت کے شوق میں بندے کی یہ حالت کیو ں نہیں ہو سکتی لیکن ایسا کم ہوتا ہے کیو نکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان کمزور ہو چکا ہے۔
جب تم (اس فصل میں بیان کیے گئے)اقوال اور وسوسوں کی قسموں پر غور کرو گے تو جان لو گے کہ ہر گروہ کا مَوْقِف درست ہے لیکن اس کا محل مخصوص ہے ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شیطان سے ایک لمحے یا ساعت کے لئے نجات ممکن ہے لیکن طویل عمر کے لئے چھٹکارا ممکن نہیں بلکہ ایسا ہونا محال ہے،اگر کوئی شخص شیطانی وَساوِس یعنی خواطِر اور شدتِ رغبت سے محفوظ رہ سکتا تھا تووہ ضرور حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات گرامی ہو تی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الوضوء،باب الوضوء ثلثاثلثا،۱/ ۷۸، حديث:۱۵۹