Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
138 - 1245
 کے ہاں تیرا مقام بہت بلند ہے۔“اس وقت بندہ یہ سو چتا ہے کہ اس کی معرفت،اس کا دل ،اعضاء کہ جن کے ذریعے وہ عمل کرتا ہے اور اس کا علم یہ سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے پیدا کرنے سے ہے تو پھراس پر خود پسندی کیسی؟ یوں شیطان دور ہو جا تا ہے کیو نکہ اس کے لئے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ ”یہ سب کچھاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی طرف سے نہیں ہے“ کیونکہ معرفت اور ایمان اسے دور کر دیتےہیں۔
	یہ بھی وسوسوں کی ایک قسم ہے اور اس قسم کے وسوسے ان عارفین سے مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں جو ایمان و معرفت کے نور سے دیکھتے ہیں۔
٭…دوسری قسم : یہ ہے کہ شیطان شہوت ابھار کر اور بھڑکاکر  وسوسہ ڈالے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:(۱)انسان کو اس شہوت کا مَعْصِیَت ہونا یقینی طور پر معلوم ہو (۲)یقین نہ ہو لیکن ظَنِّ غالب(غالب گمان) ہو۔
	یقین کی صورت میں شیطان شہوت میں ہیجان پیدا کرنے کی کو شش تو کرتا ہے لیکن اس کی یہ کوشش شہوت بھڑکانے میں مُؤَثِّر ثابت نہیں ہو تی جبکہ ظَن(گمان) کی صورت میں کوشش بعض اوقات مؤثر ثابت ہو جا تی ہے۔ اس صورت میں اس کے اِزالے کے لئے مجا ہدے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس قسم کا وسوسہ موجود رہتا ہے البتہ کبھی ختم بھی ہو جا تا ہے۔
دوران نماز وسوسوں سے چھٹکارے کی صورت:
٭…تیسری قسم: وسوسے کی ایک قسم یہ ہے جس کا تعلق محض خواطِر اور دوران ذکر ونماز عام طور پر پیش آنے والے حالات وواقعات ذہن میں لانے اور ان میں غور وفکر کرنے سے ہے۔ مثلاً جب بندہ ذکر میں مشغول ہو تا ہےتووسوسے  ایک پَل کے لئے دور ہوجاتےہیں لیکن  پھر آجاتے ہیں،پھر ختم ہو جا تے ہیں ،پھر آجاتے ہیں، الغرض! دوران ذکر وسوسے اس کثرت سے آتے ہیں کہ ایسا محسوس ہو تا ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں حتّٰی کہ جو پڑھ رہے ہوتے ہیں اس کا معنی بھی سمجھ آرہا ہو تا ہے  اور ان خواطر  کوبھی سمجھ رہے ہوتے ہیں گویا دل میں دونوں کے لئے الگ الگ جگہیں ہیں۔
	اس قسم کے وسوسے کامکمل طور پر ختم ہوجانا بہت بعیدہےلیکن ناممکن نہیں کیونکہ سرکارِدوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا ہے:”مَنْ  صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَمْ یُحَدِّثْ فِیْھِمَا نَفْسَہٗ بِشَیْءٍمِّنْ اَمْرِ الدُّنْیَا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ