Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
137 - 1245
 فِیْ رَاسِہٖ یُبْصِرُبِھِمَا اَمْرَدُنْیَاہُ وَعَیْنَانِ فِیْ قَلْبِہٖ یُبْصِرُبِھِمَا اَمْرَدِیْنِہ یعنی ہربندےکی چار آنکھیں ہوتی ہیں دوسرمیں ہوتی ہیں جن سے وہ اپنے دنیوی امور کو دیکھتا ہے اور دو دل میں ہوتی ہیں جن سے وہ اپنے دینی معاملات کو دیکھتا ہے۔“
	حضرت سیِّدُنا حارِث مُحاسِبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا یہی مذہب ہے۔
سیِّدُناامام غزالیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مَوْقِف:
	ہمارے نزدیک درست یہ ہے کہ یہ تمام مذاہب صحیح ہیں لیکن ان میں وسوسوں کی تما م قسموں کا احاطہ نہیں کیا گیا بلکہ ہرگروہ نے وسوسہ کی  ایک قسم پرنظر کی اور اس کے بارے میں خبردے دی،حالانکہ وسوسوں کی مُتَعَدَّداقسام ہیں۔
وسوسے کی اقسام:
٭…پہلی قسم: یہ ہے کہ شیطان  حق کو مُشْتَبَہ کرنے کے لئے وسوسہ ڈالے۔ شیطان بعض اوقات حق کوچھپا دیتا ہے اورانسان سے کہتا ہے:”تم دنیا وی ساز وسامان سےلذّت اٹھاتے ہوئے عیش و عشرت کی زندگی کیوں نہیں گزارتے حالانکہ عمر طویل ہے اور اتنے طویل عرصہ تک خواہشات کو قابو میں رکھنا بہت تکلیف دہ امر ہے۔“
	اس موقعہ پر جب بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق عظیم ،ثواب عظیم اور عذاب عظیم کو یاد کرتا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے کہ خواہشات پر صبر کرنا اگرچہ سخت ہے لیکن نارِجَہَنَّم کو برداشت کرنا اس سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان دونوں میں سے ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ پھر جب وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدہ ووعِیْد کو یاد کرتا ہے اور اپنے ایمان اور یقین کو تازہ کرتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے  کیو نکہ شیطان یہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ دوزخ کی آگ گناہوں پر صبر کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے  اور یہ کہنا بھی اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ گناہ نار ِجَہَنَّم کی طرف نہیں لے جاتا کیونکہ کتابُ اللہ پر اس کا ایمان اس خیال کو دور کر دیتا ہے اور یوں اس کا وسوسہ ختم ہو جاتا ہے۔
نُورِمَعْرِفت سے دیکھنے والے محفوظ ہیں:
	اسی طرح شیطان انسان کو اس کے عمل پر خود پسندی میں مبتلا کرکے بھی وسوسہ ڈالتا ہے اور کہتا ہے: ”تیری طرح کون اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت رکھتا ہے، کون تیری طرح اس  کی عبا دت کرتا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ