Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
136 - 1245
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا د فر مایاہے:”فَاِذَا ذَکَرَاﷲَ خَنَسَ یعنی جب بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے“ (1) اور ’’ خَنْس‘‘  کا معنی رک جانا ہے توگویا شیطان وسوسہ ڈالنے سے رک جاتا ہے۔
٭…دوسرا گروہ: کہتا ہے کہ وسوسے بالکل ختم نہیں ہو تے بلکہ جاری رہتے ہیں مگر ان کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے اس لئے کہ دل جب ذکر میں مُسْتَغْرَق ہو جا تا ہے تو وسوسوں کا اثر قبول کرنے سے پردے میں آجاتا ہے  جیساکہ اپنی سوچوں میں گم شخص بعض اوقات محفل میں ہوتے ہوئے بھی گفتگو سمجھ نہیں رہا ہوتا اگرچہ آواز اس کے کانوں سے ٹکرا رہی ہوتی ہے۔
٭…تیسرا گروہ: کہتا ہے کہ وسوسے نہ ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا اثر زائل ہو تا ہے البتہ قلب ان کے اثر سے مَغْلُوب نہیں ہو تا۔ شیطان گویا دورہی سےحالتِ ضُعْف  میں وسوسے ڈال رہا ہو تا ہے۔
٭…چوتھا گروہ: کہتا ہے کہ کسی لمحہ ذکر کی حالت میں وسوسے ختم ہو جاتے ہیں اور کسی پل وسوسوں کے سبب ذکر ختم ہو جاتا ہے اور قریب قریب وقت میں یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہتا ہے،دل پر تیزی سے ان کی آمد ورفت کے سبب یہ گمان ہو تا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہو ئے ہیں اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی گیند  پر بےشمار نقطے ہوں اور جب تم اسے تیزی کے ساتھ گھماؤ گے تو وہ نقطے  تیزی سے ایک دوسرے سے ملنے کے سبب دائرے کی شکل میں(ملے ہوئے) محسوس ہوں گے۔
	ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ حدیْثِ پا ک میں بَوَقْتِ ذِکرشیطان کے پیچھے ہٹ جانےکا ذکرآیا ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ذکر کرنے کے باوجود وسوسے آرہے ہو تے ہیں اور اس کی صورت  صرف یہی بن سکتی ہے۔
٭…پانچواں  گروہ: کہتا ہے کہ وسوسہ اور ذکر کبھی مُنْقَطَع نہیں ہو تے بلکہ دونوں کا عمل اپنی اپنی جگہ جا ری رہتا ہے۔ جس طرح انسان اپنی آنکھوں سے  بَیَک وقت دو مختلف چیزیں دیکھ لیتا ہے اسی طرح دل  پر بھی بیک وقت دو چیزیں جاری ہوتی ہیں۔
چار آنکھیں:
	حضورنبیّ رحمت،شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:”مَامِنْ عَبْدٍ اِلَّا وَلَہٗ اَرْبَعَةُ اَعْیُنٍ عَیْنَانِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۳۶، حديث:۲۲ بتغیر