لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ(پ۱۷،الحج:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَلْاِثْمُ حَوَّازُ الْـقُلُوْب یعنی گناہ دلوں میں کھٹکنے والی چیز ہے۔“(1)
حضورنبیّ رحمت،شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَلْبِرُّ مَااطْمَاَنَّ اِلَیْہِ الْـقَلْبُ وَاِنْ اَفْتَوْکَ وَاَفْتَوْکیعنی نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو اگرچہ مفتی تمہیں(جو بھی)فتوٰی دے، اگرچہ مفتی تمہیں(جو بھی)فتوٰی دے۔“(2)
ہم یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر مفتی کے دل نے کسی چیز کو واجب قرار دینے کا فیصلہ کیا حالانکہ وہ اس معاملےمیں خطا کار ہو تب بھی اسے ثواب ملے گابلکہ جو شخص یہ گمان کرے کہ وہ باوُضُو ہے تو اس پر نماز پڑھنا لازم ہےپھراگراسے نماز پڑھنے کے بعد یاد آئے کہ اس نے وضو نہیں کیا تو اسے بھی اس کے فعل کا ثواب ملے گا(اگر چہ نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی)اگر یاد ہو نے کے باوجود وضو نہ کیا (اور ایسے ہی نماز پڑھ لی)تو اس پر اسے عذاب ہوگا، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے بستر پر کسی عورت کو پائے اور اسے اپنی بیوی سمجھ کر اس سے ہم بستری کر لےتو گناہگار نہیں ہوگا اگر چہ وہ اَجْنَبِیَّہ ہو۔ ہاں! اگر اسے اجنبیہ خیال کیا پھر اس سے ہم بستری کی تو گناہ گار ہو گا اگر چہ وہ اس کی بیوی ہو۔
ان تمام معاملات میں اعضاء کے بجائےدل کی طرف نظر کی گئی ہے۔
ساتویں فصل: ذکر کرتے وقت وسوسوں کا مکمل ختم ہونا
ممکن ہے یا نہیں؟
جان لو کہ قَلْب پر نِگاہ رکھنے والے اور اس کی صِفات وعجائب میں غور کرنے والے علما کا اس میں اختلاف ہے اور وہ اس سلسلے میں پانچ گروہ میں مُنْقَسِم ہیں :
بَوَقْتِ ذِکر وسوسے کے متعلق عُلَما کے پانچ گروہ:
٭…ایک گروہ: کہتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرنے سے وسوسہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة،۵/ ۴۵۸، حديث:۷۲۷۷
2…المعجم الکبير،۲۲/ ۱۴۸، حديث:۴۰۳