تو چند صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:”ہم پرایسی بات کا حکم نازل ہوا ہے جو ہماری طاقت سے باہر ہے کیو نکہ ہمارے دلوں میں ایسی باتیں بھی گز رتی ہیں کہ ان کا دل پر جمنا ہمیں پسند نہیں ہوتامگر ان پر بھی حساب ہوگا؟“حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تم بھی یہودیوں کی طرح یہ کہنا چاہتے ہو”سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا یعنی ہم نے سنا اور نہ مانا“بلکہ تم کہو:”سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا یعنی ہم نے سنا اورمانا“چنانچہ صحابہ ٔ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے کہا:”سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا یعنی ہم نے سنا اورمانا“ پھر ایک سال بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر آسانی فرماتے ہوئے یہ آیتِ مُبارَکہ نازل فرمائی:
لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ (پ۳،البقرة:۲۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔
اس سے یہ بات ظاہر ہو ئی کہ قَلْب کے جو اعمال بندے کے دائرہ اختیار میں نہیں ان پر مواخذہ بھی نہیں ہے۔ دل میں پیدا ہونے والی کیفیات کے متعلق یہ وضاحت کافی ہے۔
دل کے اختیاری اعمال پر مواخذہ ہے:
جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ دل میں گزرنے والی ہر بات حدیثِ نفس ہے اور بقیہ تین اقسام کے درمیان فرق نہیں کرتا تو وہ یقیناً غَلَطی پر ہے۔ دل کے اعمال پر مُواخَذہ کیو ں نہیں ہو گا جبکہ تکبُّر، خود پسندی ، ریا، منافقت اور حسد وغیرہ بھی دل کے اعمال میں سے ہیں، بلکہ کان،آنکھ اور دل کے جو اعمال بندے کے اختیار میں ہیں ان سب کے بارے میں سوال ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نا محرم عو رت پر بلا اختیار نظر پڑ جائے تو اس پر مو اخذہ نہیں ہے لیکن اگردوسری بارنظرڈالی تو اس پر مو اخذہ ہوگا کیو نکہ یہ اختیار میں ہے۔
یہی حکم دل کے خواطر کا بھی ہے بلکہ دل کا مواخذہ تو سب سے پہلے ہونا چاہئےکیونکہ یہی اصل ہے۔ چنانچہ حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا:”اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا یعنی تقویٰ یہاں ہے۔“(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب البروالصلة،باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ،ص۱۳۸۶، حديث:۲۵۶۴