Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
133 - 1245
	معلوم ہوا کہ جو شخص رات کو اس بات کا عزم کر لے کہ صبح کسی مسلمان کو قتل کرے گا یا کسی عورت کے ساتھ زنا کر ے گا پھر اسی رات مرجائے تو وہ گناہ پر اصرار کرتا ہوا مرا اور اسے اس کی نیت پر اٹھایا جا ئے گا حالانکہ اس نے  گنا ہ کا ارادہ کیا تھا اس کا مُرْتَکِب نہیں ہوا تھا۔اس سلسلے میں قطعی دلیل یہ حدیثِ پاک ہے۔
قاتل اور مقتول دونوں جہنمی:
	حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:”جب دو مسلما ن اپنی اپنی تلواریں  لے کر ایک دوسرے  کے سامنے آجائیں تو قاتِل اور مقتول دونوں جہنم میں جا ئیں گے۔“عرض کی گئی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!قاتل توجَہَنَّم کامُسْتَحِق ہے  مگر مقتول  کا کیا گناہ ہے؟“ارشادفرمایا:”وہ بھی تو اپنے مدِّ مُقابِل کو قتل کرنا چاہتا تھا۔“(1)
	اس حدیث میں اس بات کی صَراحَت ہے کہ مقتول مَحْض ارادے کے سبب اہْلِ نار میں سے ہو گیا حالانکہ اسے مظلومیت کی حالت میں قتل کیا گیا تو اس بات کاکیسے  گمان کیا جا سکتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نیت اور پختہ ارادے پر پکڑ نہیں فرمائے گا بلکہ ہر وہ پختہ اِرادہ جو انسان کے اختیار کےتحت داخل ہے اس پر مواخذہ ہوگاسوائے یہ کہ وہ نیکی کے ذریعے اسے مٹادے  اور ندامت کے سبب عزم کو توڑدینا بھی نیکی ہے، اسی وجہ سے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، رہا کسی رکاوٹ کے سبَب مُراد کا فوت ہو جانا تو یہ نیکی نہیں ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا:
	جہاں تک خواطِر،حدیث ِ نفس اورشدید خواہش(یعنی میلان طبع) کا تعلق ہے تو یہ تمام چیزیں اختیار کے تحت داخل نہیں ہیں،لہٰذا ان پر مُواخَذہ کرنا طاقت سےزیادہ بوجھ ڈالناہے اور یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
وَ اِنۡ تُبْدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوۡہُ یُحَاسِبْکُمۡ بِہِ اللہُؕ (پ۳،البقرة:۲۸۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الايمان،باب وان طائفتان من المؤمنين اقتتلوا،۱/ ۲۳، حديث:۳۱