رکاہے تو اس کے لئے نیکی لکھی جائی گی کیو نکہ گناہ کا پختہ ارادہ کرنا گناہ ہے اور اس سے بچنا اور اس کے ترک میں نفس سے مجاہدہ کرنا نیکی ہےنیز طبیعت کے موافق گناہ کا پکا ارادہ کرلینا اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مکمل طور پر غفلت پر دلالت نہیں کرتا اورطبیعت کاخلاف کرکےمجاہدہ کے ذریعے اس سے بچنےکے لئے قوت عظیمہ درکار ہوتی ہے تو اس کا اپنی طبیعت کے خلاف مجاہدہ کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر عمل کرنا ہےاور طبیعت کے مطابق شیطان کی موافقت کی کوشش کے مقابلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عمل کرنا زیادہ سخت ہے تو اسی وجہ سے اس کےلئے نیکی لکھی گئی کیو نکہ اس نے گناہ کو عملی جا مہ پہنانے کےپختہ ارادے کے مقابلے میں اسےنہ کرنے کے پکے ارادے اور مجاہدے کواختیار کیااور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کے علاوہ کسی رکاوٹ یا عذر کی وجہ سے گنا ہ سے باز رہا تو اس کے ذمے ایک گناہ لکھا جاتا ہے کیونکہ گناہ کاپختہ ارادہ کرنا دل کا اختیاری فعل ہے اور اس تفصیل پر دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے۔
خوفِ خدا کے سبب گناہ نہ کرنے پر ایک نیکی:
حضورنبیّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا کہ فرشتے عرض کرتے ہیں:اے رب عَزَّوَجَلَّ! یہ تیرا بندہ گناہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس بات کو خوب جانتاہے،چنانچہ ارشادفرماتا ہے:”اس کو دیکھتے رہو ،اگر یہ گنا ہ کربیٹھے تو ایک گنا ہ لکھ دو اوراگرگناہ سے با ز رہے تو اس کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دو کیونکہ اس نے گنا ہ کو میری وجہ سے چھوڑا ہے۔(1)
جس حدیث میں یہ الفا ظ ہیں:”مَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا یعنی جوگناہ کاارادہ کرے اور اسے نہ کرے“اس میں بھی گناہ کے ارادے پر عمل نہ کرنے سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے گناہ چھوڑنا ہے۔
لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایاجائے گا:
بہرحال جب کوئی شخص کسی گناہ کا عزم کر ے پھر کسی سبب سے اس کے لئے گناہ کرنا مشکل ہو جائے یا غفلت کے باعث اس گناہ کو نہ کر سکےتو اس کے لئے کیسےنیکی لکھی جائے گی؟حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اِنَّمَا یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی نِیَّاتِھِم یعنی بےشک (قیامت میں)لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایاجائے گا۔“(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الايمان،باب اذاهم العبدبحسنة…الخ،ص۷۹، حديث:۱۲۹
2…سنن ابن ماجه،کتاب الزهد،باب النية،۴/ ۴۸۳، حديث:۴۲۳۰