حدیث نفس کی مثال:
حضرت سیِّدُناعثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں خولہ کو طلاق دے دوں۔“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”رک جاؤ! بےشک نکاح میری سنّت ہے(1)۔“انہوں نے عرض کی:”میرا دل کہتا ہے کہ میں مجبوب ہوجاؤں(یعنی عُضوِ تناسل کو کاٹ دوں۔)“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”ٹھہر جاؤ!میری امت کا نامرد ہونا روزے ہیں(2)۔“انہوں نے عرض کی:”میرا دل کرتا ہے کہ میں رہبانیت(یعنی گوشہ نشینی)اختیار کرلوں۔“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”رک جاؤ! میری امت کی رہبانیت جہاد اور حج ہے۔“انہوں نے عرض کی:”میرادل چا ہتا ہے کہ میں گوشت کھانا چھوڑدوں۔“(3)آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”ایسا نہ کروکیونکہ میں گوشت کوپسندکرتا ہوں،اگر مل جائے تو کھالیتا ہوں اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مانگوں توضروروہ مجھے کھلادے۔“
یہ وہ خواطر یعنی دل میں پیدا ہونے والے وسوسے تھے جنہیں عمل میں لانے کا عزم نہیں تھا، انہی کو حدیث ِنفس کہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُناعثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مشورہ کیا کیو نکہ انہوں نے ان کاموں کو کرنے کا عزم اور ھَمّ(ارادہ)نہیں کیا تھا۔
تیسری حالت ’’اعتقاد‘‘ ہے یعنی دل کا کسی کام کو کرنے کا فیصلہ کر لینا۔ یہ اعتقاد اختیا ری بھی ہوتا ہے اور اضطراری بھی اور احوال اس بارے میں مختلف ہیں تو اس میں سےجو اختیاری ہے اس پر مواخذہ ہو گا اور جو اضطراری ہے اس پر مواخذہ نہیں ہو گا۔
چوتھی حالت دل کاکسی کام کو کرنے کا پکا ارادہ کر لینا ہے، اس پر مُواخَذہ ہوگاالبتہ اگر وہ اس کام کو نہ کرے تو اس فعل کو نہ کرنے کی وجہ پر نظر کی جائے گی اگر وہ اس فعل سے خوفِ خدا اور اپنے ارادے پر ندامت کی وجہ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الدارمی،کتاب النکاح،باب النهی عن التبتل،۲/ ۱۷۹، حديث:۲۱۶۹ بتغیرقلیل
2…المسندللامام احمد بن حنبل،مسندعبدالله بن عمروبن العاص،۲/ ۵۸۲، حديث:۶۶۲۳ بتغیرقلیل
3…اللباب فی علوم الکتاب،پ۲۸،سورة الصف : ۱۰،۱۹/ ۵۹ بغیرقلیل