(3)…اس کے بعد دل اس بات کا فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے دیکھ لینا چاہئے۔ پھر طبیعت اگر چہ مائل ہو جائے مگر ارادہ اور نیت اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک رکاوٹیں دور نہ ہو جا ئیں کیو نکہ بعض اوقات حیا اور خوف اس کو دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں،یہ رکاوٹیں بعض اوقات غور وفکر سے دور ہو تی ہیں اس طرح کہ عقل اس کام کے کر گزرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ اسے ”اعتقاد“ کہتے ہیں جو کہ خاطراور میلان کے بعد پیدا ہوتا ہے۔
(4)…اس کے بعد دیکھنے کا پختہ ارادہ اورپکی نیت پیدا ہو تی ہے۔ اسے ”ھَمّ بالفعل،نیت اور قصد“ کہتے ہیں اور اس ھم کی ابتدا کبھی کمزور ہو تی ہے لیکن جب دل پہلے خاطر کی طرف مائل ہوجائے یہاں تک کہ نفس سے اس کا جھگڑا طویل ہو جائے تو یہ ھَمّ مؤکد اور ارادہ جازمہ ہو جا تا ہے۔ بعض اوقات انسان پختہ ارادہ کرلینے کے باوجود ندامت کے باعث اس کام کو ترک کر دیتا ہے اور کبھی کسی رکاوٹ کے باعث وہ اس سے غافل ہو جاتا ہے پھر نہ وہ اس کام کو کرتا ہے اور نہ ہی اس کی طرف توجہ کرتا ہے اور بعض اوقات ایسی رکاوٹ پیش آجاتی ہے کہ چاہنے کے باو جود اس ارادے پر عمل کرنا دشوار ہو جا تا ہے۔
معلوم ہوا کہ اعضاء کے عمل کرنےسے پہلے چارحالتیں ہیں:(۱)خاطرجسے’’حدیث ِنفس‘‘بھی کہتے ہیں (۲) میلان(۳)اعتقاد(۴)ہَمّ(اِرادہ)۔
ان کیفیات کے احکام:
جہاں تک خاطر کا تعلق ہے تو اس پر کوئی مواخذ ہ نہیں کیو نکہ یہ انسان کےاختیار میں نہیں،یہی حکم میلان اور شدّتِ خواہش کا ہے کیو نکہ یہ دونوں بھی آدمی کے بس میں نہیں ہیں اور حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان”عَفٰى عَنْ اُمَّتِيْ مَا حَدَّثَتْ بِهٖ نُفُوْسُهَا یعنی میری امت کےقلبی وسوسے معاف ہیں“(1)میں یہی دونوں حالتیں مراد ہیں۔ حدیْثِ نفس ان خواطِر کو کہتے ہیں جو دل پر گزریں مگر ان کے بعد اس فعل کو کرنے کا عزم نہ پیدا ہو اور جہاں تک ہَمّ(اِرادہ) اورعزم کا تعلُّق ہے تو اسے حدیْثِ نَفْس نہیں کہا جاتا بلکہ حدیث نفس کی مثال تو حضرت سیِّدُنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیثِ پاک میں ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الطلاق،باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ...الخ،۳/ ۴۸۵، حديث:۵۲۷۹