وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۳۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
یہ آیت مبارکہ اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ دل کا عمل بھی کان اور آنکھ جیساہے،لہٰذا اس کی معافی نہیں ہے۔
نیز ارشاد با ری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہٰدَۃَ ؕ وَمَنۡ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ؕ (پ۳،البقرة:۲۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تواندر سے اس کا دل گنہگار ہے۔
اور ارشاد فر ما تا ہے:
لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمْ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوۡبُکُمْؕ (پ۲،البقرة:۲۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دل نےکیے۔
سیِّدُناامام غزالیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مَوْقِف:
اس مسئلے میں ہمارے نزدیک حق با ت یہ ہے کہ جب تک دل کے اعمال کی پوری تفصیل اس کے ظُہُور کی ابتدا سے لے کر اعضاء پر عمل کے ظاہر ہو نے تک معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی حکم نہیں لگا یا جاسکتا۔
دل میں پیدا ہو نے والی کیفیات:
ہم کہتے ہیں کہ دل پر چار طرح کی کیفیات طاری ہوتی ہیں:
(1)…دل میں سب سے پہلے جو چیز آتی ہے اسے خاطر کہتے ہیں۔ مثلاً دل میں کسی ایسی عورت کا خیال آئے جو راستے میں اس کے پیچھے ہوکہ اگر گھوم کر دیکھنا چاہے تو دیکھ لے۔
(2)…اس کے بعد دیکھنے کی شدید خواہش پیدا ہو تی ہے یعنی طبیعت میں موجود شہوت بھڑک اٹھتی ہے۔
یہ خواہش پہلے خاطر سے پیدا ہو تی ہے اور اسے”میلانِ طبع“کہتے ہیں جبکہ خاطر اوّل کو ”حدیْثِ نفس(یعنی وسوسہ)“ کہتے ہیں۔