فَاکْـتُبُوْھَا حَسَنَةً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوْھَا عَشْرَایعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نگہبان فرشتوں(یعنی کرامًا کاتبین) سے فرماتا ہے:جب میرا بندہ گناہ کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھو،اگروہ اس کو کر گزرے تو ایک گناہ لکھو اور جب وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اسے نہ کرے تو ایک نیکی لکھواور اگر کر لے تودس نیکیاں لکھو۔(1)
اس حدیث کو امام بخاری وامام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے صحیحین میں نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ دل کا عمل اور برائی کاقَصْد معاف ہے۔
ایک روایت میں ہے:مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَاكُتِبَتْ لَهٗ حَسَنَةٌ وَّمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهٗ اِلٰى سَبْعَمِائَةِ ضِعْفٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ وَاِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ یعنی جو نیکی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے پھر اسے کر لے تو اس کے لئے سات سو گنا تک ثواب لکھا جاتا ہےاور جو گناہ کا ارادہ کرے اور اسے نہ کرے تواس کے لئے کوئی گناہ نہیں لکھاجاتا اور اگر کرگزرے توایک گناہ لکھ دیاجاتا ہے۔(2)
ایک روایت میں اس طرح ہے:وَاِذَا تَحَدَّثَ بِاَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَةً فَاَنَااَغْفِرُھَا مَالَمْ یَعْمَلْھَا یعنی جب میر ا بندہ گنا ہ کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کو معاف کر دیتا ہوں جب تک کہ اس کے مطابق عمل نہ کرے۔(3)
یہ تمام اَحادیث گَرِفْت نہ فرمانے پر دلالت کرتی ہیں۔
وسوسوں کےمواخذہ پر دلالت کرنے والی آیات:
مُواخَذہ پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں چنا نچہ اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فر ما تا ہے:
وَ اِنۡ تُبْدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوۡہُ یُحَاسِبْکُمۡ بِہِ اللہُؕ فَیَغْفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُؕ (پ۳،البقرة:۲۸۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر تم ظاہر کرو جوکچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔
نیزارشادفر ماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الايمان،باب اذاهم العبدبحسنة… الخ،ص۷۹، حديث:۱۲۸
2… مسلم،کتاب الايمان،باب اذاهم العبدبحسنة… الخ،ص۷۹، حديث:۱۳۰
3… مسلم،کتاب الايمان،باب اذاھم العبدبحسنة … الخ،ص۷۹، حديث:۱۲۹