ہو گی وہ لازمی طور پرظاہرمیں بھی بری ہی نظر آئے گی،چنانچہ شیطان کتے،مینڈک اور خنزیر وغیرہ کی صورت میں نظر آتا ہے جبکہ فرشتہ اچھی صورت میں نظر آتا ہے تو یہ صورت باطن کا پتہ دیتی ہے اور اس کی سچی تصویر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں بندر یا خنزیر کو دیکھے تو اس کی تعبیر خبیث انسان سے کی جاتی ہے اور بکری دیکھے تو اس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل صاف ہو اور تمام قسم کے خوابوں اور تعبیر کا یہی معاملہ ہے، یہ دل کے عجیب وغریب اَسرارہیں اور عِلْمِ مُعامَلَہ میں ان کا ذکر مُناسِب نہیں،یہاں مقصود صرف اس بات کی تصدیق ہے کہ شیطان اور فِرِشْتَہ اہل دل کے سامنے بطریق تمثیل اور حکایت ظاہر ہو تے ہی، جس طرح خواب میں نظر آتے ہیں اسی طرح کبھی حقیقت میں بھی نظر آتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تمثیلی صورت نظر آتی ہے جو باطن کے موافق ہو تی ہے اور یہ باطن کی تمثیلی صورت ہو تی ہے نہ کہ عین باطن مگر آنکھ سے اس کا مشاہدہ حقیقی ہو تا ہے اور صاحِبِ کَشْف اکیلا ہی اس کا مُشاہَدہ کرتا ہے،اس کے آس پاس کے لوگ نہیں دیکھتے جس طرح خواب سونے والا دیکھتا ہے قریب بیٹھے لوگ نہیں دیکھتے۔
چھٹی فصل: کن وساوس، ارادوں اور خیالات پر پکڑہے
اور کن پر نہیں؟
جان لو کہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس سلسلے میں آیات و روایات متعارض ہیں جن میں تطبیق دینا مشکل ہے، صرف نَقّاد(کھرے کھوٹے کی پہچان رکھنے والے) عُلَما ہی ان میں تطبیق دے سکتے ہیں۔
وسوسوں کی پکڑ نہ ہونے کے متعلق روایات:
حضور نبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:عَفٰى عَنْ اُمَّتِیْ مَا حَدَّثَتْ بِهٖ نُفُوْسُهَا مَالَمْ تَتَكَلَّمْ بِهٖ اَوْ تَعْمَلْ بِه یعنی میری امت کےقلبی وسوسے معاف ہیں جب تک کہ ان کو زبان پر نہ لایا جائے یا ان کے مطابق عمل نہ کیا جائے۔(1)
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ لِلْحَفَظَةِ اِذَا ھَمَّ عَبْدِیْ بِسَیِّئَةٍ فَلَا تَکْتُبُوْھَا فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوْھَاسَیِّئَةً وَاِذَا ھَمَّ بِحَسَنَةٍ لَمْ یَعْمَلْھَا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الطلاق،باب الطلاق فی الاغطلاق والکرہ… الخ،۳/ ۴۸۵، حديث:۵۲۶۹