Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
126 - 1245
شیطان مینڈک کی صورت میں:
	حضرت سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْعَزِیْزسےمنقول ہے کہ ایک شخص نے اللہ عَزَّ   وَجَلَّسےدعا کی کہ اسے ابن آدم کے دل میں شیطان کی جگہ دکھلا دی جائے۔ چنانچہ اس نے خواب میں انسان کے جسم کو صاف شفاف پتھر کی مانند دیکھا جس کے اندر کا حصہ  باہر سے نظر آرہا تھا اور شیطان کو مینڈک کی صو ر ت میں بائیں طرف کے مونڈ ھے اور کان کے درمیان بیٹھے دیکھا،اس کی پتلی اور لمبی ایک سونڈتھی جسےوہ بائیں کاندھے سےدل میں داخل کرکےاس شخص کے اندروسوسےڈال رہاتھا،جب وہ شخص ذکرُاللہ کرتا تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا۔
	بعض اوقات اس طرح کا مشاہدہ بیداری کی حالت میں بھی ہو جا تا ہے۔ چنانچہ
دنیا کی مثال مردار کی سی ہے:
	ایک صاحِبِ کَشْف بُزرگ نے شیطان کو کتے کی صورت میں  دیکھا  جو مردار کے پاس کھڑا ہواتھا  اور لوگوں کو اس کی طرف بلا رہا تھا۔
	مردار سے مراد دنیا ہے اوراس طرح کا مشاہدہ حقیقی صورت دیکھنے کی طرح ہے کیونکہ دل پر وہی حقیقت ظاہر ہوتی ہے جو عالَم مَلکُوت کے مطابق ہوتی ہے اور اس وقت  اس کا اثر اس راستے پر چمکتا ہے جو عالَم شہادت(یعنی ظاہری دنیا) کے مطابق ہے کیو نکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔
	ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ دل کے دو راستے ہیں:(۱)ایک راستہ عالَم غیب کی طرف نکلتا ہے جوکہ اِلہام اور وحی کے داخل ہو نے کا راستہ ہے اور(۲)دوسرا عالَم شہادت(یعنی ظاہری دنیا) کی طرف نکلتا ہے۔ توجو اس(یعنی عالَم غیب) سے عالَم شہادت سےقریب راستے میں ظاہر ہو تاہے وہ صرف خیالی صورت ہو تی ہے کیو نکہ عالَم شہادت تمام کا تمام تَخُیُّلات ہے البتہ خیال کبھی حس کے ذریعے عالَم شہادت کے ظاہر کی طرف نظر کرنے سے حاصل ہو تا ہے لہٰذا ظاہری صورت کا  با طن کے مطابق نہ ہونا بھی ممکن ہےحتّٰی کہ ایک شخص دِکھنے میں خوبصورت ہو تا ہے مگر اندر سے خبیث اور بُرا ہوتا ہےکیو نکہ عالَم شہادت میں دھوکا بہت زیادہ ہے۔
	رہی وہ خیالی صورت جو  عالَم ملکوت کے نور سے دل کے اندر پیدا ہو تی ہے  وہ بعینہٖ صفت کے مطابق اورموافق ہوتی ہے کیونکہ عالم ملکوت کی صورت صفت کے تابع اور موافق ہوتی ہے،لہٰذاجو چیز باطن میں بُری