ایک سوال اور اس کا جو اب :
اگر تم کہو کہ شیطان کس طرح بعض لوگوں کے سامنے آجاتا ہے اور بعض کے سامنے نہیں آتا اور جب وہ کسی صورت میں نظر آتا ہے تو وہ اس کی حقیقی صورت ہو تی ہے یا کسی اور کی صورت اختیار کرتا ہے؟اگروہ اصل صورت میں آتا ہے تو مختلف صورتوں میں کس طرح دکھائی دیتا ہے نیز ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر دو مختلف صورتوں میں کیسے نظر آتا ہے کہ دو آدمی اسے دو مختلف صورتوں میں دیکھ لیتے ہیں؟
جان لو کہ فرشتہ اور شیطان کو حقیقی صورت کے علاوہ ایک اور صورت عطا کی گئی ہے، ان کی حقیقی صورت کا مشاہدہ صرف انوارِ نبوت کے ذریعے ہی ممکن ہے اورحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے(1)اور یہ بھی اس وقت ہوا جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے اپنی اصل صورت دکھانے کا کہا۔ انہوں نے جنَّتُ الْبَــقِیْع میں آپ سے وعدہ کیا اور غارِحرامیں اپنی اصلی صورت میں نُمُودار ہوئے اور مشرق سے مغرب تک اُفُق کو(اپنے پروں سے) گھیر لیااوردوسری مرتبہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے معراج کی رات سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس انہیں دیکھا،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثر اوقات انہیں انسانی صورت میں دیکھتے تھے اور وہ صورت حضرت سیِّدُنادِحْیَہ کَلْبِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہوا کرتی(2)جو کہ حسین وجمیل تھے۔
اکثر اہل دل اور صاحِبِ کَشْف حضرات پر کَشْف اس طرح ہو تا ہے کہ وہ اس کی مثالی صورت دیکھتے ہیں، چنانچہ شیطان بیداری کی حالت میں ان کے سامنے آجاتا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اپنے کانوں سے سنتے ہیں پھر یہ مثالی صورت اس کی حقیقی صورت کے قائم مقام ہو جا تی ہے، جیساکہ اکثرصالحین کو یہ صورت اوّلاً خواب میں دکھائی دیتی ہے اور پھر بیداری میں کشف حاصل ہوتا ہے،ایسا شخص اس مرتبے تک پہنچ چکا ہوتا ہے کہ حواس کی دنیا میں مشغولیت خواب اور بیداری کی حالت میں اس پر ہونے والے کشف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی حالانکہ عام لوگ ایسی چیزیں صرف خواب میں دیکھتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب التفسير،سورة النجم،۳/ ۳۳۶، حديث:۴۸۵۵
2… بخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوة فی الاسلام،۲/ ۵۱۰، حديث:۳۶۳۴