میں ہے، دوسری قسم فضا میں ہوا کی مانند اڑنے والی ہے اور تیسری قسم وہ کہ جنہیں ثواب ملے گا اور ان پر عذاب ہو گا،اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسانوں کو بھی تین اقسام پر پیدا فرمایا ہے ایک قسم وہ کہ جانوروں کی طرح ہیں جن کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:” قُلُوۡبٌ لَّایَفْقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّایَسْمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ؕ (1)“ دوسری قسم وہ جن کے جسم توبنی آدم کے اجسام کی طرح ہیں مگران کی روحیں شیطان کی ارواح کی مثل ہیں اور تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو بروزِقیامتاللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے جس دن اس کے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔(2)
ابن آدم کی تین قسمیں:
حضرت سیِّدُناوُہَیْب بن وَرْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ ا بلیس ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن زَکَرِیا عَلَیْہِمَا السَّلَامکے پاس آیا او رکہنے لگا:میں آپ کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:مجھے تیری نصیحت کی حاجت نہیں،البتہ تو مجھے بنی آدم کے متعلق بتا۔اس نے کہا:ہمارے نزدیک بنی آدم کی تین قسمیں ہیں:
٭…پہلی قسم: وہ ہے جو ہم پر بڑے سخت ہیں،ہم ان میں سے کسی کے پاس جاتے ہیں اور اسے فتنے میں مبتلا کرکے اس پر قابو پا لیتے ہیں لیکن وہ توبہ اور استغفار کرتے ہوئے ہماری کوشش پر پانی پھیر دیتا ہے،پھر ہم دوبارہ کوشش کرتے ہیں ، وہ دوسری باربھی یہی عمل کرتاہے لہٰذا ہم نہ تو اس سے مایوس ہوتے ہیں اور نہ ہی اس سے اپنے مقصد کو پانے میں کا میاب ہو پاتے ہیں ،بس اس کے معاملےمیں مشقت میں ہی رہتے ہیں۔
٭…دوسری قسم:یہ لوگ ہمارے ہاتھوں میں ایسے ہیں جیسے گیند بچوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہےہم جیسے چاہتے ہیں انہیں اُچَک لیتے ہیں اور وہ خود ہی ہمیں مشقت سے بچالیتے ہیں۔
٭…تیسری قسم: یہ لوگ آپ کی طرح گناہوں سے محفوظ ہوتےہیں ہمارا ان پر کچھ قابو نہیں ہوتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کرگمراہ۔(پ۹،الاعراف:۱۷۹)
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۲۹، حديث:۱