اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ (پ۲۲،فاطر:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک شیطان تمہارادشمن ہے توتم بھی اُسے دشمن سمجھو۔
لیکن گناہوں کے معاملے میں تم اس کا ساتھ دیتے ہو۔(۶)تمہارا دعوٰی یہ ہے کہ ہم جہنم سے ڈرتے ہیں مگر کام وہ کرتے ہو جس سے تمہارا دوزخ میں جانا یقینی ہوجائے۔(۷)تم کہتے ہو کہ ہم جنت کے خواہشمند ہیں لیکن اس کے لئے عمل نہیں کر تے۔(۸)جب اپنے بستروں سے اٹھتے ہو تو اپنے عیبوں کوپس پُشت ڈال کر دوسروں کے عیب نکالنے میں لگ جا تے ہو۔
تم اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کرچکے ہو تو کس طرح وہ تمہاری دعا ئیں قبول کرے گا۔
ایک سوا ل اور اس کا جو ا ب :
اگر تم کہو کہ مختلف گناہوں کی طرف ایک شیطان بلاتا ہے یا مختلف شیطان؟
جان لو کہ عِلْمِ مُعامَلہ میں تمہیں اس بات کو جاننے کی حاجت نہیں ، تم دشمن کو دور کرنے میں مشغول رہو اس کی صفت کے متعلق نہ پو چھو،سبزی کھاؤ خواہ کہیں سے بھی آئے اس کے اُگنے کی جگہ کے متعلق مت پوچھو، البتہ احادیث مبارکہ میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ شیاطین کے لشکر کثیر تعداد میں ہیں اور ہر گناہ کے لئے ایک شیطان مخصوص ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے۔
یہ بات ہم نے کس طرح سمجھی اسے بیان کیا جائے تو بات طویل ہوجائے گی، جو کچھ ہم نے ذکر کیا تمہارے لئے یہی کا فی ہے اور وہ یہ ہے کہ مُسَبَّب کا مختلف ہونا اسباب کے مختلف ہو نے پر دلالت کرتا ہے جیساکہ روشنی کا ایک سبب آگ ہے اور سیاہی کا ایک سبب دھواں ہے۔
شیطا ن کی اولادوں کےنام اور ان کے کام:
حضرت سیِّدُنا امام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں:شیطا ن کی پانچ اولادیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک کسی ایک کام پر مقرر ہے ان کےنام یہ ہیں:(۱)ثَبْر(۲)اَعْوَر(۳)مِسْوَطْ(۴)داسِم(۵)زَلَنبُور۔
ثَبْر: یہ مصیبت کے وقت آتا ہے اورموت کی دعا مانگنے،گریبان پھاڑنے ،گالوں پر تھپڑیں مارنے اور