لہٰذا اگر تم شیطان سے چھٹکاراچاہتے ہوتو پہلے تقویٰ کے ذریعے پرہیز اختیار کرو پھر اس کے بعدذکرکی دوااستعمال کروتو شیطان تم سےاسی طرح بھاگے گا جیسے حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھاگتا تھا۔
ظاہِر و باطِن کا فرق ختم کرو:
حضرت سیِّدُنا وَہَب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرواور ظاہر میں شیطان کو برا بھلا مت کہو جبکہ تمہارا حال یہ ہے کہ باطنی طور پر تم اس کے دوست ہو یعنی اس کے فرمانبردار ہو۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تعجب ہے اس شخص پر جومُحْسِن(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ)کے احسان کو جاننےکے با وجو د اس کی نافرمانی کرتا ہے اور شیطان لعین کی سرکشی جاننے کے باوجو د اس کی اطاعت کرتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے :
اُدْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ (پ۲۴،المؤمن:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:مجھ سے دعاکرومیں قبول کروں گا۔
اس فرمان کے باوجود جس طرح تم دعا کرتے ہو اور تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی اسی طرح تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے ہو مگر تم سے شیطان نہیں بھاگتا کیو نکہ ذکر اور دعا کی شرائط نہیں پائی جاتیں۔
دعا کیوں قبول نہیں ہوتی:
حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمسے پوچھا گیا: کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں لیکن ہماری دعا قبول نہیں ہوتی؟ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو ارشاد فرماتا ہے:
اُدْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ (پ۲۴،المؤمن:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:مجھ سے دعاکرومیں قبول کروں گا۔
حضرت سیِّدُناابرا ہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے فرما یا:اس لئے کہ تمہارے دل مردہ ہیں۔ لوگوں نے پوچھا:دلوں کو کس چیز نے مردہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:آٹھ باتوں نے:(۱)تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق کو پہچانا لیکن اس کا حق ادا نہ کیا۔(۲)تم نے قرآن پاک پڑھا لیکن اس کے احکا مات پر عمل نہ کیا۔(۳)تمرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کادعوٰی کرتے ہولیکن ان کی سنت پر عمل نہیں کرتے۔(۴)تم کہتے ہو کہ ہم موت سے ڈرتےہیں لیکن اس کے لئے تیاری نہیں کرتے۔ (۵)اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے: