اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ (پ۲۶،ق:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جودل رکھتا ہو۔
نیزارشادفر ما تا ہے:
کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَ یَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۴﴾ (پ۱۷،الحج:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اُسے گمراہ کردے گا اور اُسے عذاب دوزخ کی راہ بتائے گا۔
معلوم ہوا جو انسان اپنے عمل سے شیطان کی مدد کرتا ہے وہ اس کا دوست ہے اگرچہ وہ زبان سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے۔
نماز دلوں کی کسوٹی ہے :
سوال:اگرتم کہو کہ حدیث شریف میں تو بغیر کسی قیدکےفرمایاگیا:”ذکرشیطان کوبھگادیتا ہے“(1) اور شریعت کے عُمومی مسائل میں علمائے کرام نے جو شرائط بیان کی ہیں انہیں تم نہ سمجھو۔
جواب:تم اپنے آپ کوہی دیکھ لوتو جان لوگے کہ خبر دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی اور اپنے بارے میں غور کرو کہ تمہارا انتہائی درجہ کا ذکر اور غایت درجہ کی عبادت نماز ہے اور حال یہ ہے کہ دورانِ نماز شیطان تمہارے دل کو کس طرح بازاروں ،دنیا جہان کے حساب وکتاب اورمخالفین کے جوابات سوچنے کی طرف لے جاتاہے اور تم کو کیسے دنیا کی وادیوں اور صحراؤں کی سیر کرواتا ہےحتّٰی کہ دنیا کی وہ فضول باتیں جو تم بھول چکے ہوتے ہو وہ بھی تم کو نماز ہی میں یاد آتی ہیں اور شیطان بھی تمہارے دل پر اسی وقت حملہ کرتا ہے جب تم نماز پڑھ رہے ہو تے ہو۔
نماز دلوں کی کسوٹی ہے۔ اسی کےسبب دل کی اچھائیاں اور برائیاں واضح ہو تی ہیں۔ ان لوگوں کی نماز قبول نہیں ہو تی جن کے دل خواہشاتِ دنیا سے بھرے ہوں اور شیطان کا تم سے دور ہونا ممکن نہیں بلکہ بعض اوقات اس کا خطرہ تم پر بڑھ جاتا ہے جیساکہ پرہیز نہ کرنے کی صورت میں بعض اوقات دوا نقصان کرجاتی ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۳۶، حديث:۲۲