شیطان کی بے بسی:
سرکار والا تبار،ہم بے کسو ں کے مدد گار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:میرے پاس شیطان آیا اور مجھ سے جھگڑنے لگا میں نے اس کاگلاپکڑ لیا،اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! میں نے اس کا گلا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے تھوک کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ پر محسوس نہ کرلی اور اگر میرے بھائی سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامکی دعا(1)نہ ہوتی تو وہ صبح مسجد میں پڑا ہوتا۔(2)
شان ِفاروقی:
رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مَاسَلَــکَ عُمَرُ فَجًّااِلَّا سَلَــکَ الشَّیْطَانُ فَجًّاغَیْرَ الَّذِیْ سَلَـکَہٗ عَمَر یعنی جس راستے پر عمر چلتاہےشیطان اس راستے پر نہیں چلتا۔(3)
یہ اس وقت ممکن ہے جبکہ دل شیطان کی چراگاہ بننے اور اسے قوت دینے والی اشیاء یعنی خواہشات سے پاک ہو۔
صحابہ کا سا عمل ہم سے ممکن نہیں:
اگر تم یہ چاہو کہ صرف ذکرُاللہ سے شیطان بھا گ جائے جس طرح حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھاگتا تھا تو یہ نا ممکن ہے۔ تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جو پرہیز نہ کرے اور معدہ کو غلیظ کھانوں سے بھرلے پھر دوا پی کر یہ امید رکھے کہ یہ اسے نفع دے گی جس طرح اس شخص کو نفع دیتی ہےجو اسے پرہیز کرنے اور معدے کو خالی کرنے کے بعد استعمال کرتا ہے۔
گویا ذکر دوا ہے اور تقوٰی پرہیز ہے اور تقوٰی یہ ہے کہ دل خواہشات سے خالی ہو۔ ذکر کے علاوہ چیزوں سے خالی دل میں جب ذکر اترتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہےجس طرح غذا سے خالی معدہ میں جب دوا اترتی ہے تو بیماری بھاگ جاتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَامکی دعایہ تھی: رَبِّ اغْفِرْ لِیۡ وَہَبْ لِیۡ مُلْکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیۡ ۚیعنی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو۔(پ۲۳،ص:۳۵)
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۴۸، حديث:۶۸
3… بخاری،کتاب فضائل أصحاب النبی،باب مناقب عمربن خطاب،۲/ ۵۲۶، حديث:۳۶۸۳